ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 94

نباتات سے لے کر کیڑوں اور چوہوں تک بھی کوئی چیز ایسی نہیں جو انسان کے لئے منفعت اور فائدہ سے خالی ہو۔یہ تمام اشیاء خواہ وہ ارضی ہیں یا سماوی اللہ تعالیٰ کی صفات کے اظلال اور آثار ہیں اور جب صفات میں نفع ہی نفع ہے تو بتلاؤ کہ ذات میں کس قدر نفع اور سود ہوگا۔اس مقام پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جیسے ان اشیاء سے ہم کسی وقت نقصان اٹھاتے ہیں تو اپنی غلطی اور نافہمی کی وجہ سے۔اس لئے نہیں کہ نفس الامر میں ان اشیاء میں مضرت ہی ہے۔نہیں بلکہ اپنی غلطی اور خطا کاری سے۔اسی طرح پر ہم اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا علم نہ رکھنے کی وجہ سے تکلیف اور مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں ورنہ خدائے تعالیٰ تو ہمہ رحم اور کرم ہے۔دنیا میں تکلیف اٹھانے اور رنج پانے کا یہی راز ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں اپنی سوءِ فہم اور قصور علم کی وجہ سے مبتلائے مصائب ہوتے ہیں۔پس اس صفاتی آنکھ کے ہی روزن سے ہم اللہ تعالیٰ کو رحیم اور کریم اور حد سے زیادہ قیاس سے باہر نافع ہستی پاتے ہیں اور ان منافع سے زیادہ بہرہ ور وہی ہوتا ہے جو اس کے زیادہ قریب اور نزدیک ہوتا جاتا ہے اور یہ درجہ ان لوگوں کو ہی ملتا ہے جو متقی کہلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں جگہ پاتے ہیں۔جوں جوں متقی خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا جاتا ہے ایک نور ہدایت اسے ملتا ہے جو اس کی معلومات اور عقل میں ایک خاص قسم کی روشنی پیدا کرتا ہے اور جوں جوں دور ہوتا جاتا ہے ایک تباہ کرنے والی تاریکی اس کے دل و دماغ پر قبضہ کر لیتی ہے۔یہاں تک کہ وہ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ (البقرۃ:۱۹) کا مصداق ہو کر ذلّت اور تباہی کا مورد بن جاتا ہے مگر اس کے بالمقابل نور اور روشنی سے بہرہ ور انسان اعلیٰ درجہ کی راحت اور عزت پاتا ہے چنانچہ خدائے تعالیٰ نے خود فرمایا ہے يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ۔ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (الفجر:۲۸،۲۹) یعنی اے وہ نفس جو اطمینان یافتہ ہے اور پھر یہ اطمینان خدا کے ساتھ پایا ہے۔بعض لوگ حکومت سے بظاہر اطمینان اور سیری حاصل کرتے۔بعض کی تسکین اور سیری کا موجب ان کا مال اور عزت ہو جاتی ہے اور بعض اپنی خوبصورت اور ہوشیار اولاد و احفاد کو دیکھ دیکھ کر بظاہر مطمئن کہلاتے ہیں مگر یہ لذّت اور انواع و اقسام کی لذّات دنیا انسان کو سچا اطمینان اور سچی تسلی نہیں دے سکتیں بلکہ ایک قسم کی ناپاک حرص کو پیدا کرکے طلب اور پیاس