ملفوظات (جلد 10) — Page 91
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۱ جلد دہم فرماتا ہے۔ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدة : ۲۸ ) یعنی اللہ ان کی عبادت قبول کرتا ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں اور ڈرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے منشا کے مطابق کام کرتے ہیں اور سب سے پہلا کام تو یہ ہے کہ اس کے مامور کو مانیں ۔ دیکھو! یہودی خدا کو مانتے ہیں اور مشرک بھی نہیں۔ قبلہ بھی ان کا وہ ہے جو پہلے مسلمانوں کا رہ چکا ہے مگر پھر بھی خدا کے حضور مقبول نہیں ۔ صرف اس لئے کہ اللہ کے رسول کو نہ مانا۔ رسولوں کو نہ ماننے سے وہی جنہیں عالمین پر فضیلت دی گئی تھی ملعون ہوئے۔ کیونکہ گناہ تو اور بھی ہیں مگر سب سے بڑا گناہ مامور من اللہ کا انکار ہے۔ غور کر کے دیکھو تو معلوم ہو جائے گا کہ سب سے بڑا گناہ یہ کیوں ہے؟ جس قدر گناہ ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کے احکام کی نافرمانبرداری سے پیدا ہوتے ہیں اور خدا کے احکام ماموروں کی معرفت دنیا پر ظاہر ہوتے ہیں۔ پس جب ان احکام کے لانے والے کو نہ مانا تو گو یا اللہ کے کسی حکم کو بھی نہ مانا کیونکہ جس نے اللہ کی مرضی ظاہر کرنی تھی جب اس کا انکار کیا تو اس کی رضا مندی کی راہوں کا کیوں کر علم ہو سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ یہودی با وجود خدا کو ماننے ۔ نماز روزہ کرنے کے بند ر سو ر کہلائے۔ اس شخص نے عرض کیا حضور میں ایمان لایا۔ وصول الی اللہ کا ذریہ فرمایا۔ پھر توبہ واستغفار الی اللہ فرمایا۔ پھر تو بہ و استغفار وصول الی اللہ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: ۷۰) پوری کوشش سے اس کی راہ میں لگے رہو منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے ۔ اللہ تعالیٰ کو کسی سے بخل نہیں ۔ آخر انہی مسلمانوں میں سے وہ تھے جو قطب اور ابدال اور غوث ہوئے ۔ اب بھی اس کی رحمت کا دروازہ بند نہیں۔ قلب سلیم پیدا کرو۔ نماز سنوار کر پڑھو۔ دعائیں کرتے رہو۔ ہماری تعلیم پر چلو ۔ ہم بھی دعا کریں گے۔ یا درکھو! ہمارا طریق بعینہ وہی سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام طریق اسلام کا تھا۔ آج کل فقراء نے کئی بدعتیں نکال لی ہیں۔ یہ چلتے اور وردا ورد وظائف جو انہوں نے رائج کر لیے ہیں ہمیں نا پسند ہیں۔ اصل طریق اسلام قرآن مجید کو تدبر سے پڑھنا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرنا اور نماز توجہ کے ساتھ پڑھنا اور دعا ئیں توجہ و انابت الی اللہ سے