ملفوظات (جلد 10) — Page 90
طرف سے آیا وہ کس لئے تلوار سے جہاد کرتا؟ اب تو زمانہ دلائل سے جہاد کرنے کا ہے جو ہو رہا ہے۔یہ لوگ عجیب قسم کی تا ریکی میں ہیں کہ انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔جو اُن کے رہبر بنے ہوئے ہیں وہ عجیب قسم کے مکروں سے کام لے رہے ہیں۔دنیا ہی دنیا میں ان کا مقصود ہے۔اسلام میں ایک بیج بویا گیا تھا بجائے اس کے کہ اس کی آبیاری کرتے اس کو اُجاڑنے کے در پے ہیں۔۱ ۸؍جنوری ۱۹۰۸ء آخر ی زمانہ کے اکثر نشانات پورے ہو چکے ہیں فرمایا۔بڑے تعجب کی بات ہے کہ آخری زمانہ کے متعلق جس قدر نشانات تھے ان میں سے بہت پورے ہو چکے مگر پھر بھی لوگ توجہ نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ غنی ہے اور اس کو ان لوگوں کی پروانہیں جو اس سے لاپرواہی اختیار کرتے ہیں یہ لوگ دنیا کے معمولی کاموں کے لیے کس قدر تکلیفیں برداشت کرتے ہیں۔اس کا عشر عشیر بھی دین کی تحقیق کے لئے محنت نہیں اُٹھاتے بلکہ طرح طرح کے بیہودہ عذر کرتے ہیں۔حالانکہ جیسے اَور معمولی کام دنیا کے کر رہے ہیں ایسا ہی اس اَلنَّبَاِ الْعَظِيْمِ کی تحقیق بھی یہ کر سکتے ہیں جس پر اُخروی زندگی کی بہبودی کا دار و مدار ہے۔مامور من اللہ کا انکا ر سب سے بڑا گناہ ہے ایک شخص نے جو اکثر صوفیوں کی صحبت میں رہا ہے عرض کیا کہ دعا کریں کہ مجھے خدا کا شوق ومعرفت حا صل ہو۔فرمایا۔پہلے ایما ن کو درست کرو۔یہ ریا ضتیں جو طریقہ نبوی سے باہر ہیں یہ تو کسی کام نہ آئیں گی اور نہ منزل مقصود کو پہنچائیں گی۔دیکھو! بعض جوگی اس قدر ریاضتیں کرتے ہیں کہ اپنے بازو سکھا دیتے ہیں۔مگر اللہ کے نزدیک مقبول نہیں کیونکہ ایک تو ارشاد نبوی کے خلاف۔دوم ایمان ہی نہیں اور اللہ تعالیٰ ۱ بدر جلد ۷ نمبر ۲ مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۳