ملفوظات (جلد 10) — Page 89
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۹ جلد دہم اصل بات وہی ہے جو خدا نے جو خدا نے عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَفِرِينَ عَرْضًا ( الكهف : ۱۰۱) سے آگے فرمایا الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاءِ عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَبْعًا ( الكهف : ١٠٢ ) ذکر سے مراد یہ ہے کہ جو میں نے ان کو اپنے مامور کی معرفت یا د کیا ۔ خدا کا یاد کرنا یہی ہوتا ہے کہ اپنی طرف سے ایک مصلح کو بھیج دیا۔ سو اس مامور سے وہ غفلت میں رہے۔ ان کی آنکھوں کے آگے طرح طرح کے شبہات کے حجاب چھائے رہے اور حق کا نور نظر نہ آیا۔ یہ کیونکہ جوش تعصب سے ان کی ایسی حالت ہوگئی جو وہ اس مامور کی بات کو سن ہی نہیں سکتے ( وَكَانُوا لا يَسْتَطِيعُونَ سَبْعًا ) اب ان لوگوں کی حالت یہی ہو رہی ہے اور اس کی سزا بھی وہی مل رہی ہے جو قرآن مجید میں ہے کہ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَينِ لِلْكَفِرِينَ عَرْضًا - ۶ ر جنوری ۱۹۰۸ء لو ایک دوست نے اپنا خواب بیان کیا موجودہ حالات میں مصلح کی ضرورت جس میں یہ آیت بھی تھی ومن يتق الله يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق: ٣) يَتَّقِ فرمایا۔ ایک عالمگیر عذاب کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے جس سے نجات کا ذریعہ صرف تقویٰ ہی ہے۔ دیکھو یہ قحط جو بڑھتا جاتا ہے یہ بھی شامت اعمال ہی ہے۔ جو اس سے بچنا چاہتے ہیں وہ اللہ کے حضور توبہ کرے مگر تو بہ کے آثار نظر نہیں آتے۔ یہ لوگ بار بار تکذیب کرتے ہیں۔ نشان پرنشان دیکھتے ہیں اور پھر نہیں مانتے ۔ کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یہ کیوں تکذیب و تکفیر پر کمر بستہ ہیں؟ نہ قرآن مجید ان کے ساتھ، نہ احادیث ان کے ساتھ موجودہ حالات پکار پکار کر ایک مصلح کی ضرورت جتا رہی ہیں۔ غرض عقلی نقلی دونوں طریق سے یہی جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں مگر پھر بھی باز نہیں آتے۔ بار بار جہاد کو پیش کرتے ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے کہ جب کوئی گورنمنٹ مذہب کے لئے نہیں لڑتی تو وہ جو خدا کی بدر جلد نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۳