ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 89

اصل بات وہی ہے جو خدا نے عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَىِٕذٍ لِّلْكٰفِرِيْنَ عَرْضًا( الکھف : ۱۰۱) سے آگے فرمایا اَلَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُهُمْ فِيْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِيْ وَ كَانُوْا لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ سَمْعًا ( الکھف :۱۰۲) ذکر سے مراد یہ ہے کہ جو میں نے ان کو اپنے مامور کی معرفت یاد کیا۔خدا کا یاد کرنا یہی ہوتا ہے کہ اپنی طرف سے ایک مصلح کو بھیج دیا۔سو اس مامور سے وہ غفلت میں رہے۔ان کی آنکھوں کے آگے طرح طرح کے شبہات کے حجاب چھائے رہے اور حق کا نور نظر نہ آیا۔یہ کیونکہ جوش تعصب سے ان کی ایسی حالت ہوگئی جو وہ اس مامور کی بات کو سن ہی نہیں سکتے (وَ كَانُوْا لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ سَمْعًا)اب ان لوگوں کی حالت یہی ہو رہی ہے اور اس کی سزا بھی وہی مل رہی ہے جو قرآن مجید میں ہے کہ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَىِٕذٍ لِّلْكٰفِرِيْنَ عَرْضًا۔۱ ۶؍جنوری ۱۹۰۸ء موجودہ حالات میں مصلح کی ضرور ت ایک دوست نے اپنا خواب بیان کیا جس میں یہ آیت بھی تھی وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا (الطلاق:۳) فرمایا۔ایک عالمگیر عذاب کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے جس سے نجات کا ذریعہ صرف تقویٰ ہی ہے۔دیکھو یہ قحط جو بڑھتا جاتا ہے یہ بھی شامت اعمال ہی ہے۔جواس سے بچنا چاہتے ہیں وہ اللہ کے حضور توبہ کرے مگر توبہ کے آثار نظر نہیں آتے۔یہ لوگ بار بار تکذیب کرتے ہیں۔نشان پر نشان دیکھتے ہیں اور پھر نہیں مانتے۔کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یہ کیوں تکذیب وتکفیر پر کمر بستہ ہیں؟ نہ قرآن مجید ان کے ساتھ، نہ احادیث ان کے ساتھ موجود ہ حالات پکار پکار کر ایک مصلح کی ضرورت جتا رہی ہیں۔غرض عقلی نقلی دونوں طریق سے یہی جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں مگر پھر بھی باز نہیں آتے۔بار بار جہاد کو پیش کرتے ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے کہ جب کوئی گورنمنٹ مذہب کے لئے نہیں لڑتی تو وہ جو خدا کی ۱ بدر جلد ۷ نمبر ۳ مورخہ ۲۳؍جنوری ۱۹۰۸ءصفحہ ۳