ملفوظات (جلد 10) — Page 83
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۳ جلد دہم ہو کر مکتی خانہ میں رہے اور پھر ناکردہ گناہ کی وجہ سے وہاں سے نکالا جاوے اور کتا سور بلا بنایا جاوے۔ آریہ کہتے ہیں کہ پرمیشر ہر ایک انسان میں تھوڑ اسا گناہ بطور بیچ کے لازماً باقی رکھ لیتا ہے جو اس کو دوبارہ پھنسانے کے کام آتا ہے لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اس بقیہ گناہ کے سبب پھر سزائیں ایسی مختلف کیوں دی جاتی ہیں کہ کوئی شیر بنایا جاوے اور کوئی بکری، کوئی بچھو اور سانپ بنایا جاوے اور کوئی گھوڑا اور ہاتھی اور کوئی کرم نا پاک بنایا جائے اور کوئی انسان پوتر۔ پھر انسانوں میں کوئی مرد بنایا جائے اور کوئی عورت ۔ اس تفریق کا کیا سبب ہو سکتا ہے؟ (۳) پھر یہ بھی آریوں کا ایک عجیب مسئلہ ہے کہ مختلف گناہوں کے سبب مختلف جو نہیں بنتی ہیں۔ اس سے تو لازم آتا ہے کہ جس قدر جو نہیں ہیں اسی قدر گناہوں کی تعداد ہو اور چونکہ الہامی کتاب صرف وید ہی ہے اس واسطے وہ تمام گناہ وید میں مذکور ہونے چاہئیں۔ لیکن جب وید کے احکام کو دیکھا جاتا ہے تو ان کی گفتی آریوں کے نزدیک بھی چند سو سے زائد نہ ہوگی۔ لیکن کئی ہزار قسم کے جانور تو جنگلوں میں موجود ہیں ۔ کئی ہزار قسم کے کیڑے مکوڑے زمین پر رینگ رہے ہیں۔ پھر درختوں کے پرند اور سمندروں کے جانور جن کی گنتی ہی نہیں یہ اتنی جو نہیں کہاں سے آگئیں ۔ (۴) آریہ لوگ کہتے ہیں کہ روحوں کو بہشت میں سے نکالنے کی ضرورت اس واسطے پڑے گی کہ ان کی عبادت بہت محدود زمانہ کی تھی ۔ ایسی محدود عبادت کا بدلہ بھی محدود وقت کے لئے ہونا چاہیے مگر یہ عقیدہ بہت ہی فاسد ہے آریہ لوگ ایسے محدود وقت کے خیال سے عبادت کرتے ہوں گے۔ اسلام میں تو یہ بات نہیں ہمارا عہد تو خدا کے ساتھ ابدی ہے ہم کسی محدود وقت کی نیت کے ساتھ خدا کی عبادت نہیں کرتے بلکہ ایسی نیت کو کفر جانتے ہیں ۔ ہم نے تو ہمیشہ کے لیے خدا کی عبادت کا جوا اپنے گلے میں ڈال لیا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ ہمیں وفات دے تو اس سے ہماری نیت میں کوئی فرق نہیں ۔ ہم اسی عبادت کے ثواب کو ساتھ لے کر فوت ہوتے ہیں ۔ ہم اس کو محدود نہیں رکھتے ۔