ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 80

خدا کے فعل پر اپنا فخر جاننا اور خوش ہونا جاہل کا کام ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ آپ بعض دفعہ رات کو اس قدر عبادت میں کھڑے ہو تے تھے کہ پاؤں پر ورم ہو جاتا تھا۔ساتھی نے عرض کی کہ آپ تو گناہوں سے پاک ہیں اس قدر محنت پھر کس لئے۔فرمایا۔اَفَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا کیا میں شکر گذار نہ بنوں۔انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے انسان کو چاہیے کہ مایوس نہ ہووے۔گناہوں کا حملہ سخت ہوتا ہے اور اصلاح مشکل نظر آتی ہے مگر گھبرانا نہیں چاہیے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو بڑے گناہ گار ہیں۔نفس ہم پر غالب ہے۔ہم کیوں کر نیکوکار ہو سکتے ہیں؟ ان کو سوچنا چاہیے کہ مومن کبھی نا اُمید نہیں ہوتا۔خد ا کی رحمت سے نا اُمید ہونے والا شیطان ہے اور کوئی نہیں۔مومن کو کبھی بزدل نہیں ہونا چاہیے گو کیسا ہی گناہ سے مغلوب ہو۔پھر بھی خدا تعالیٰ نے انسان میں ایک ایسی قدرت رکھی ہے کہ وہ بہر حال گناہ پر غالب آہی جاتا ہے۔انسان میں گناہ سو ز قوت خدا نے رکھی ہے۔جو اس کی فطرت میں موجو د ہے۔ایک لطیف مثال دیکھو! پانی کو کیسا ہی گرم کیا جائے ایسا سخت گرم کیا جائے کہ جس چیز پر ڈالیں وہ چیز بھی جل جائے پھر بھی اگر اس کو آگ پر ڈالو تو وہ آگ کو بجھا دے گا کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھ دی ہے کہ وہ آگ کو بجھا دیوے۔ایسا ہی انسان کیسا ہی گناہ میں ملوث ہو اور کیسا ہی بد کاری میں غرق ہو پھر بھی اس میں یہ طاقت موجود ہے کہ وہ معاصی کی آگ کو بجھا سکتا ہے۔اگر یہ بات انسان میں نہ ہوتی تو پھر وہ مکلّف نہ ہوتا بلکہ پیغمبر رسول کا آنا بھی پھر غیر ضروری ہوتا مگر دراصل فطرت انسانی پاک ہے اور جیسا کہ جسم کے لیے بھوک اور پیاس ہے تو کھانا اور پینا بھی آخر میسر آجاتا ہے انسان کے واسطے دم لینے کے واسطے ہو ا کی ضرورت ہے تو وہ موجود ہے اور جسم کے لیے جس قدر سامان ضروری ہیں جب کہ وہ سب مہیا کردئیے جاتے ہیں تو پھر روح کے واسطے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ کیوں مہیا نہ ہوں گی؟ خدا تعالیٰ رحیم، غفور اور ستار ہے اس نے روحانی بچاؤ کے واسطے بھی تمام سامان مہیا کر دئیے ہیں۔انسان کو چاہیے کہ