ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 73

اور خدا نے بیٹے کو بھی بچا لیا۔تب خدا تعالیٰ ابراہیم پر خوش ہوا کہ اُس نے اپنی طرف سے کوئی فرق نہ رکھا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ بیٹا بچ گیا ورنہ ابراہیم نے اس کو ذبح کر دیا تھا۔اس واسطے اس کو صادق کا خطاب ملا۔اور توریت میں لکھا ہے کہ خد ا تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم! تو آسمان کے ستاروں کی طرف نظر کر کیا تو ان کو گن سکتا ہے؟ اسی طرح تیری اولاد بھی نہ گنی جائے گی۔تھوڑے سے وقت کی تکلیف تھی وہ تو گذر گئی۔اس کے نتیجہ میں کس قدر انعام ملا۔آج تمام سادات اور قریش اور یہود اور دیگر اقوام اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کا فرزند کہتے ہیں۔۱ گھڑی دو گھڑی کی بات تھی وہ تو ختم ہو گئی اور اتنا بڑا انعام ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا۔درحقیقت انسان کا تقویٰ تب محقّق ہوتا ہے جب کہ اس پر کوئی مصیبت وارد ہو۔جب وہ تمام پہلو ترک کر کے خدا کے پہلو کو مقدم کرلے اور آرام کی زندگی کو چھوڑ کر تلخ زندگی قبول کر لے تب انسان کو حقیقی تقویٰ حا صل ہوتا ہے۔انسان کی اندرونی حالت کی اصلاح نری رسمی نما زوں اور روزوں سے نہیں ہو سکتی بلکہ مصائب کا آنا ضروری ہے۔؎ عشق اوّل سر کش و خونی بوَد تا گریزد ہر کہ بیرونی بود اوّل حملہ عشق کا شیر کی طرح سخت ہو تا ہے جس قدر انبیاء اور رسول اور صدیق گذرے ہیں اُن میں سے کسی نے معمولی امور سے ترقی نہیں پائی بلکہ ان کے مدارج کا راز اس بات میں تھا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے ساتھ موافقت تامہ کی۔مومن کی ساری اولاد ذبح کر دی جائے اور اس کے سوائے بھی اس پر تکالیف پڑیں تب بھی وہ بہر حال قدم آگے بڑھاتا ہے۔دیکھو! انسان باوجود ہزاروں کمزوریوں کے اپنے سچے دوست کے ساتھ وفا داری کرتا ہے۔تو کیا خدا جو رحمان اور رحیم ہے وہ تمہارے ساتھ وفا داری نہ کرے گا۔خدا سے ایسا پیار کرو کہ اگر ہزار بچہ ایک طرف ہو اور خدا ایک طرف تو خدا کی طرف اختیار کرو او ربچوں کی پروا نہ کر و۔مصائب تمام انبیاء پر وارد ہو تے رہے ہیں۔۱ انگریزوں میں بھی ایک فرقہ ہے جس کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے ہیں۔(یہ غالباً ایڈیٹر صاحب بدر کا اپنا نوٹ ہے۔مرتّب)