ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 74

کوئی اُن سے خالی نہیں رہا اسی واسطے مصائب کے برداشت کرنے والے کے لئے بڑے بڑے اجر ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور اپنے رسول کو خطاب کیا ہے کہ صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو جو مصیبت کے وقت کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا کہ ہمارا کوئی وجود ہی نہ تھا۔خدا نے ہم کو پیدا کیا ہے اور اس کی ہم امانت ہیں اور اسی کے پاس جانا ہے۔ایسے لوگوں کے واسطے بشارت ہے۔ان مصائب کے ذریعہ سے جو برکات حا صل ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو خا ص بشارت ملتی ہے وہ نماز روزہ زکوٰۃ سے حا صل نہیں ہو سکتی۔نما ز کما حقہ ادا ہو جاوے تو بہت عمدہ شے ہے مگر خدا کی طرف سے جو نشانہ لگتا ہے۔وہ سب سے زیادہ ٹھیک بیٹھتا ہے اور اسی سے ہدایت اور رستگاری حا صل ہو تی ہے۔جماعت کو تکالیف برداشت کرنے کی تلقین اب اہلِ جماعت غور سے سنیںاور اس بات کو سمجھیں کہ دونوں قسم کی تکالیف خدا تعالیٰ نے تمہارے واسطے رکھی ہیں۔اوّل تکالیف شرعی ہیں ان کی برداشت کرو۔دوسری تکالیف قضاء و قدر کی ہیں۔اکثر انسان شرعی تکالیف کو کسی نہ کسی طرح ٹال دیتے ہیں اور ان کو پورے طور سے ادا نہیں کر تے۔مگر قضاء وقدر سے کون بھاگ سکتا ہے۔اس میں انسان کا اختیار نہیں۔یاد رکھو! انسان کے واسطے یہی ایک عالَم نہیں بلکہ اس کے بعد ایک اور عالَم ہے۔یہ تو ایک بہت ہی مختصر زندگی ہے کوئی پچاس ساٹھ سال کی عمر میں مَر گیا۔کسی نے دس بارہ سال اور گذار لیے۔اس جگہ کی مصائب کا خاتمہ تو موت کے ساتھ ہو جا تا ہے مگر اُس عالم کا خاتمہ نہیں۔جب قیامت بر حق ہے اور وہ ایمان کا لازمہ ہے تو اس چند روزہ زندگی کی تکالیف کا برداشت کر لینا کیا مشکل ہے؟ اس دائمی جہان کے واسطے کو شش کرنی چاہیے۔جو شخص کوئی تکلیف بھی نہیں اُٹھاتا۔وہ کیا سرمایہ رکھتا ہے مومن کی نشانی یہ ہے کہ وہ صرف صبر کرنے والا نہ ہو بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ مصیبت پر راضی ہو۔خدا کی رضا کے سا تھ اپنی رضا کو ملا لے۔یہی مقام اعلیٰ ہے۔مصیبت کے وقت خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھنا چاہیے مُنْعِم کو نعمتوں پر مقدم رکھو۔بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت