ملفوظات (جلد 10) — Page 72
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۲ جلد دہم بگڑ جاتی ہے یا چور لے جاتے ہیں۔ کبھی ثمرات میں نقصان ہوتا ہے یعنی پھل خراب ہو جاتے ہیں۔ کھیتی ضائع جاتی ہے اور یا اولا د عزیز مر جاتی ہے محاورہ عرب میں اولاد کو بھی ثمر کہتے ہیں۔ اولاد کا فتنہ بھی بہت سخت ہوتا ہے اکثر لوگ مجھے گھبرا کر خط لکھتے رہتے ہیں کہ آپ دعا کریں کہ میری اولاد ہو۔ اولاد کا فتنہ ایسا سخت ہے کہ بعض نادان اولاد کے مر جانے کے سبب دہر یہ ہو جاتے ہیں۔ بعض جگہ اولا د انسان کو ایسی عزیز ہوتی ہے کہ وہ اس کے واسطے خدا کا ایک شریک بن جاتی ہے بعض لوگ اولاد کے سبب سے دہریہ، ملحد اور بے ایمان بن جاتے ہیں ۔ بعضوں کے بیٹے عیسائی بن جاتے ہیں تو وہ بھی اولاد کی خاطر عیسائی ہو جاتے ہیں۔ بعض بچے چھوٹی عمر میں مر جاتے ہیں تو وہ ماں باپ کے واسطے سلب ایمان کا موجب ہو جاتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ۔ جب کسی پر صدمہ سخت ہو اور صدمہ کے مطابق اجر ہوتا ہے وہ صبر کرے تو جتنا صدمہ ہو اتنا ہی اس کا اجر بھی زیادہ ہوا ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ رحیم ، غفور اور ستار ہے۔ وہ انسان کو اس واسطے تکلیف نہیں پہنچا تا کہ وہ تکلیف اُٹھا کر دین سے الگ ہو جائے بلکہ تکالیف اس واسطے آتی ہیں کہ انسان آگے قدم بڑھائے ۔ صوفیاء کا قول ہے کہ ابتلا کے وقت فاسق آدمی قدم پیچھے ہٹاتا ہے لیکن صالح آدمی اور بھی قدم آگے بڑھاتا ہے۔ ایک روایت میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء اور رسل کے ابتلا اور امتحانات کے گیارہ لڑ کے فوت ہوئے تھے۔ انبیاء اور رسل کو جو بڑے بڑے مقام ملتے ہیں وہ ایسی معمولی باتوں سے نہیں مل جاتے جو نرمی سے اور آسانی سے پوری ہو جائیں بلکہ ان پر بھاری ابتلا اور امتحان وارد ہوئے جن میں وہ صبر اور استقلال کے ساتھ کامیاب ہوئے تب خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو بڑے بڑے درجات نصیب ہوئے ۔ دیکھو حضرت ابراہیم پر کیسا بڑا ابتلا آیا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں چھری لی کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے اور اس چھری کو اپنے بیٹے کی گردن پر اپنی طرف سے پھیر دیا مگر آگے بکرا تھا۔ ابراہیم امتحان میں پاس ہوا