ملفوظات (جلد 10) — Page 71
کر لیتے ہیں۔غرض ان تکا لیفِ شرعیہ میں کچھ نہ کچھ آرام کی صورت ساتھ ساتھ انسان نکالتا رہتا ہے۔اس واسطے اس سے پورے طور پر صفائی نہیں ہوتی اور منازل سلوک جلدی سے طے نہیں ہو سکتے۔تکالیفِ سماوی لیکن سماوی تکالیف جو آسمان سے اُترتی ہیں اُن میں انسان کا اختیار نہیں ہوتا اور بہر حال برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ا س واسطے ان کے ذریعہ سے انسان کو خدا تعالیٰ کا قرب حا صل ہوتا ہے۔ہر دو قسم کی تکلیف شرعی اور سماوی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں (کیا ہے) (۱) تکالیف شرعی کے متعلق پہلے سیپارہ میں فرمایا ہے الٓمّٓ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠(البقرۃ:۲،۳) یعنی مومن وہ ہے جو خدا تعالیٰ پر غیب سے ایمان لاتے ہیں۔اپنی نما ز کو کھڑا کرتے ہیں یعنی صدہا وساوس آکر دل کو اَور طرف پھیر دیتے ہیں مگر وہ بار بار خدا کی طرف توجہ کرکے اپنی نماز کو جو بہ سبب وساوس کے گرتی رہتی ہے بار بار کھڑا کرتے رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں۔یہ تکالیف شرعیہ ہیں۔مگر ان پر پورے طور سے بھروسہ حصولِ ثواب کا نہیں ہو سکتا کیونکہ بہت سی باتوں میں انسان غفلت کرتا ہے اکثر نماز کی حقیقت اور مغز سے بے خبر ہو کر صر ف پوست کو ادا کرتا ہے۔( ۲) اس واسطے انسانی مدارج کی ترقی کے واسطے سماوی تکالیف بھی رکھی گئی ہیں ان کا ذکر بھی خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں کیا ہے۔جہاں فرما یا ہے وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ اُولٰٓىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ ( البقرۃ : ۱۵۶تا ۱۵۸) یہ وہ مصائب ہیں جو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے ڈالتا ہے یہ ایک آزمائش ہے جس میں کبھی تو انسان پر ایک بھارے درجہ کا ڈر لاحق ہوتا ہے۔وہ ہر وقت اس خوف میں ہوتا ہے کہ شاید اب معاملہ بالکل بگڑ جائے گا۔کبھی فقروفاقہ شاملِ حال ہو جاتا ہے۔ہر ایک اَمر میں انسان کا گذارہ بہت تنگی سے ہونے لگتا ہے۔کبھی مال میں نقصان نمودار ہوتا ہے۔تجارت اور دکانداری