ملفوظات (جلد 10) — Page 70
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۰ جلد دہم دنیا دار لوگ تو ایسے مصائب کے وقت وجود باری تعالیٰ کا بھی مصائب کا آنا ضروری ہے انکار کر بیٹھتے ہیں۔ دنیا کی وضع ہی ایسی بنی ہے کہ اس میں مصائب کا آنا ضروری ہے ۔ دنیا میں جس قدر آدمی گزرے ہیں ان میں سے کون دعوی کر سکتا ہے کہ اس پر کبھی کوئی مصیبت وارد نہیں ہوئی؟ کسی کی مصیبت اولاد پر وارد ہوتی ہے اور کسی کے مال پر اور کسی کی عزت پر ۔ غرض ہر ایک کو کوئی نہ کوئی مصیبت اور ابتلا د یکھنا ہی پڑتا ہے بغیر اس کے دنیا میں چارہ نہیں ۔ یہ دنیا کا لازمہ ہے۔ عرب کا ایک پرانا شاعر لکھتا ہے۔ سَئِمْتُ تَكَالِيفَ الْحَيَاةِ وَمَنْ يَعِشُ ثَمَانِينَ حَوْلًا لَا أَبَا لَكَ يَسْتَمِ دنیا میں میں نے بڑی بڑی تکلیفیں دیکھی ہیں اور جو کوئی میری طرح اسی سال تک جیے گا وہ بھی لا محالہ کچھ دیکھے گا۔ دنیا کے مصائب تو دراصل چند روز کے واسطے ہیں ۔ کوئی جلدی مرا اور کوئی دیر سے مرا۔ آخر سب نے مر جانا ہے۔ دین کے راہ میں دو قسم کی تکلیفیں ہیں۔ ایک تکالیف شرعیہ جیسا کہ نماز ہے اور تکالیف شرعیہ روزہ ہے اور حج ہے اور زکوۃ ہے۔ نماز کے واسطے انسان اپنے کاروبار کو ترک کرتا ہے اور ان کا ہرج بھی کر کے مسجد میں جاتا ہے سردی کے موسم میں پچھلی رات اُٹھتا ہے۔ ماہ رمضان میں دن بھر کی بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے۔ حج میں سفر کی صعوبتیں اُٹھاتا ہے زکوۃ میں اپنی محنت کی کمائی دوسروں کے سپرد کر دیتا ہے۔ یہ سب تکالیف شرعیہ ہیں اور انسان کے واسطے موجب ثواب ہیں۔ اس کا قدم خدا کی طرف بڑھاتی ہیں لیکن ان سب میں انسان کو ایک وسعت دی گئی ہے اور وہ اپنے آرام کی راہ تلاش کر لیتا ہے۔ جاڑے کے موسم میں وضو کے واسطے پانی گرم کر لیتا ہے۔ بہ سبب علالت کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھ لیتا ہے۔ رمضان میں سحری میں اُٹھ کر خوب کھانا کھا لیتا ہے بلکہ بعض لوگ ماہ صیام میں معمول سے بھی زیادہ خرچ کھانے پینے پر