ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 65

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۵ جلد دہم کر لیتا ہے ہم نے ایک شخص کو دیکھا تھا جس نے صرف بارہ آنہ کی خاطر ایک لڑکے کو جان سے مار دیا تھا۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ حضرت انساں که حد مشترک را جامع است می تواند شد مسیحا می تواند شد خرے غرض جو انسان نفس امارہ کے تابع ہوتا ہے وہ ہر ایک بدی کو شیر مادر کی طرح سمجھتا ہے اور جب تک کہ وہ اسی حالت میں رہتا ہے بدیاں اُس سے دُور نہیں ہو سکتیں۔ پھر دوسری قسم نفس کی نفس لوامہ ہے جیسے کہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ لا اقسم بِالنَّفْسِ التَّوَّامَةِ (القيمة : ۳) یعنی میں اس نفس کی قسم کھاتا ہوں جو بدی کے کاموں اور نیز ہر ایک طرح کی بے اعتدالی پر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے۔ ایسے شخص سے اگر کوئی بدی ظہور میں آجاتی ہے تو پھر وہ اس پر جلدی سے متنبہ ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو بُری حرکت پر ملامت کرتا ہے اور اسی لئے اس کا نام نفس لوامہ رکھا ہے۔ یعنی بہت ملامت کرنے والا ۔ جو شخص اس نفس کے تابع ہوتا ہے وہ نیکیوں کے بجالانے پر پورے طور پر قادر نہیں ہوتا اور طبعی جذبات اس پر کبھی نہ کبھی غالب آجاتے ہیں لیکن وہ اس حالت سے نکلنا چاہتا ہے اور اپنی کمزوری پر نادم ہوتا رہتا ہے۔ اس کے بعد تیسری قسم نفس کی نفس مطمئنہ ہے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر : ۲۸ تا ۳۱) یعنی اے وہ نفس ! جو خدا سے آرام پا گیا ہے اپنے رب کی طرف واپس چلا آتو خدا سے راضی ہے اور خدا تجھ پر راضی ہے۔ پس میرے بندوں میں مل جا اور میرے بہشت کے اندر داخل ہو جا۔ غرض یہ وہ حالت ہوتی ہے کہ جب انسان خدا سے پوری تسلی پالیتا ہے اور اس کو کسی قسم کا اضطراب باقی نہیں رہتا اور خدا تعالیٰ سے ایسا پیوند کرتا ہے کہ بغیر اس کے جی ہی نہیں سکتا نفس لوامہ والا تو ابھی بہت خطرے کی حالت میں ہوتا ہے کیونکہ اندیشہ ہوتا ہے کہ لوٹ کر وہ کہیں پھر نفس اتارہ نہ بن جاوے۔ لیکن نفس مطمئنہ کا وہ مرتبہ ہے کہ جس میں نفس تمام کمزوریوں سے نجات پا کر روحانی قوتوں سے بھر جاتا ہے۔