ملفوظات (جلد 10) — Page 58
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۸ جلد دہم سے دیکھو گے اور خدا تعالیٰ سے ڈر کر استغفار ، لاحول اور دوسرے نیک کاموں میں مشغول ہو جاؤ گے تو یہ تمہارے لیے اچھا ہو گا لیکن جو بے پرواہی سے کام لیتا ہے تو آخر کار جب وہ وقت آ جائے گا تو اس وقت رونے چلانے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا اور آخر کار بڑی ذلت اور نامرادی سے ہلاکت کا منہ دیکھنا پڑے گا اور پھر جس دنیا کے لئے دین سے منہ موڑا تھا اس کو بھی بڑی حسرت سے چھوڑنا پڑے گا۔ دیکھو! طاعون بھی آنے والی ہے۔ دنیا کہتی ہے کہ اب تو دور ہو گئی ہے اور اس کا دورہ ختم ہو گیا ہے مگر خدا کہتا ہے کہ عنقریب ایسی طاعون پھیلنے والی ہے جو پہلے کی نسبت نہایت ہی سخت ہوگی اور پھر یہ بھی فرمایا ہے کہ ایک سخت و با پھیلے گی جس کا کوئی نام بھی نہیں رکھ سکتے ۔ لیکن ان سب باتوں کے بعد تو بہ۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کا متفق علیہ مسئلہ میں تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تعالی کی رحمتیں سمندروں سے بھی زیادہ ہیں ۔ اگر وہ شدید العقاب ہے تو غفور الرحیم بھی تو ہے۔ جو شخص تو بہ کرتا اور استغفار اور لاحول میں مشغول ہو جاتا ہے اور دین کو دنیا پر مقدم کر لیتا ہے تو وہ ضرور بچایا جاتا ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کا یہ متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جو عذاب آنے سے پہلے ڈرتے ہیں اور خدا کی یاد میں مشغول ہو جاتے ہیں وہ اس وقت ضرور بچائے جاتے ہیں جب کہ عذاب اچانک آدباتا ہے لیکن جو اس وقت روتے اور آہ وزاری کرتے ہیں جب کہ عذاب آ پہنچتا ہے اور اس وقت گڑ گڑاتے اور توبہ کرتے ہیں جب کہ ہر ایک سخت سے سخت دل والا بھی لرزاں اور ترساں ہوتا ہے تو وہ بے ایمان ہیں وہ ہرگز نہیں بچائے جاتے۔ یہ باتیں جو میں کہہ رہا ہوں میں نہیں جانتا کہ تم میں سے کتنے آدمی آنے والے سخت ایام ہیں جو سچے دل سے ان باتوں کو مانتے ہیں مگر میں پھر بھی وہی کہتا ہوں کہ یہ دن جو آنے والے ہیں تو یہ نہایت سخت ہیں۔ لوگوں کی بد اعتقادیوں اور بدعملیوں نے خدا کے غضب کو بھڑ کا دیا ہے۔ تمام نبیوں نے اس زمانہ کی نسبت پہلے ہی سے خبر دے رکھی ہے کہ اس وقت ایک مری پڑے گی اور کثرت سے اموات ہوں گی ۔