ملفوظات (جلد 10) — Page 54
ملفوظات حضرت مسیح موعود ولد جلد دہم ہوتے ہیں اور جو خدا سے غافل کر دیتے ہیں اعراض کرنے لگ جاتا ہے اور ایسے لوگوں کی گریہ وزاری اور تضرع اور انتہال اور خدا کے حضور عاجزی کرنے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایسا شخص دین کی محبت کو دنیا کی محبت ، حرص، لالچ اور عیش و عشرت سب پر مقدم کر لیتا ہے کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ ایک نیک فعل دوسرے نیک فعل کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور ایک بد فعل دوسرے بد فعل کی ترغیب دیتا ہے۔ جب وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع خضوع کرتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طبعاً وہ لغو سے اعراض کرتے ہیں اور اس اور اس گندی دنیا سے نجات پا جاتے ہیں اور اس دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو کر خدا کی محبت ان میں پیدا ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ هُم لِلزَّكوة فعِلُونَ (المؤمنون :(۵) یعنی وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور یہ ایک نتیجہ ہے عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ کا۔ کیونکہ جب دنیا سے محبت ٹھنڈی ہو جائے گی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ ہو گا کہ وہ خدا کی راہ میں خرچ کریں گے اور خواہ قارون کے خزانے بھی ایسے لوگوں کے پاس جمع ہوں وہ پروا نہیں کریں گے اور خدا کی راہ میں دینے سے نہیں جھجکیں گے۔ ہزاروں آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ زکوۃ نہیں دیتے یہاں تک کہ اُن کی قوم کے بہت سے غریب اور مفلس آدمی تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں مگر وہ ان کی پروا بھی نہیں کرتے حالانکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر ایک چیز پر زکوۃ دینے کا حکم ہے یہاں تک کہ زیور پر بھی۔ ہاں جواہرات وغیرہ چیزوں پر نہیں اور جوامیر ، نواب اور دولت مند لوگ ہوتے ہیں ان کو حکم ہے کہ وہ شرعی احکام کے بموجب اپنے خزانوں کا حساب کر کے زکوٰۃ دیں لیکن وہ نہیں دیتے۔ اس لئے خدا فرماتا ہے عنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ( المؤمنون : ۴) کی حالت تو ان میں تب پیدا ہو گی جب وہ زکوۃ بھی دیں گے گویا ز کوۃ کا دینا لغو سے اعراض کرنے کا ایک نتیجہ ہے۔ سے بدر سے فرمایا ۔ رِجَالُ لَا تُنْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ ( النور : ۳۸) یعنی ہمارے ایسے بندے بھی ہیں جو بڑے بڑے کارخانہ تجارت میں ایک دم کے لیے بھی ہمیں نہیں بھولتے ۔ خدا سے تعلق رکھنے والا دنیا دار نہیں کہلاتا۔ بلکہ دنیا دار وہ ہے جسے خدا یاد نہ ہو۔“ ( بدر جلدے نمبر امورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۱۰) بدر سے ۔ دنیا کی محبت بخیل بنادیتی ہے۔ آخرت کو بھلانا اور دنیا سے دل لگانا یہ سخت منع ہے۔“ وو ( بدر جلدے نمبر ۱ مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۱۰) سے بدر سے ۔ ” یہ قوت زکوۃ دینے کی لغو سے کنارہ کشی پر حاصل ہوتی ہے۔ پس تم دنیا کی محبت کم کرو بلکہ نہ کرو تا ز کوۃ دینے کی قوت حاصل ہو اور تم فلاح پاؤ۔“ ( بدر جلدے نمبر ا مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه (۱۰)