ملفوظات (جلد 10) — Page 52
چاہیے۔خدا کا وعدہ ہے کہ آخری مسیح کے زمانہ میں شیطان بالکل مَر جائے گا۔گو شیطان ہر ایک انسان کے سا تھ ہوتا ہے مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شیطان مسلمان ہو گیا تھا۔شیطان کے لا حول سے بھاگنے کی حقیقت اسی طرح خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس زمانہ میں شیطان کی بالکل بیخ کنی کر دی جائے گی۔یہ توتم لوگ جانتے ہی ہو کہ شیطان لاحول کہنے سے بھاگتا ہے مگر وہ ایسا سادہ لوح نہیں کہ صرف زبانی طور پر لاحول کہنے سے بھاگ جائے۔اس طرح سے تو خواہ سو دفعہ لا حول پڑھا جاوے وہ نہیں بھاگے گا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جن کے ذرّہ ذرّہ میں لا حول سرایت کر جاتا ہے اور جو ہروقت خدا تعالیٰ سے ہی مدد اور استعانت طلب کرتے رہتے ہیں اور اس سے ہی فیض حا صل کرتے رہتے ہیں وہ شیطان سے بچائے جاتے ہیں اور وہی لو گ ہوتے ہیں جو فلاح پانے والے ہوتے ہیں۔دعا کی ضرورت اور حقیقت مگر یا د رکھو! کہ یہ جو خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کی ابتدا بھی دعا سے ہی کی ہے اور پھر اس کو ختم بھی دعا پر ہی کیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان ایسا کمزور ہے کہ خدا کے فضل کے بغیر پاک ہو ہی نہیں سکتا۱ اور جب تک خدا تعالیٰ سے مدد اور نصرت نہ ملے یہ نیکی میں ترقی کر ہی نہیں سکتا۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ سب مُردے ہیں مگر جس کو خدا زندہ کرے اور سب گمراہ ہیں مگر جس کو خدا ہدایت دے اور سب اندھے ہیں مگر جس کو خدا بینا کرے۔غرض یہ سچی بات ہے کہ جب تک خدا کا فیض حا صل نہیں ہوتا تب تک دنیا کی محبت کا طوق گلے کا ہا ر رہتا ہے اور وہی اس سے خلاصی پاتے ہیں جن پر خدا اپنا فضل کرتا ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ خدا کا فیض بھی دعا سے ہی شروع ہو تا ہے۔لیکن یہ مت سمجھو کہ دعا صرف زبانی بک بک کا نام ہے بلکہ دعا ایک قسم کی موت ہے جس کے ۱ بدر سے۔’’ تم اپنے تئیں پاک مت ٹھہراؤ کیونکہ کوئی پاک نہیں جب تک خدا پاک نہ کرے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۰)