ملفوظات (جلد 10) — Page 51
ہو جائے گا۔گو ہر نبی کے زمانہ میں شیطان مغلوب ہو تا رہا ہے مگر وہ صرف فرضی طور پر تھا حقیقی طور پر اس کا مغلوب ہونا مسیح کے ہاتھوں سے مقدر تھا اور خدا تعالیٰ نے یہاں تک غلبہ کا وعدہ دیا ہے کہ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ فرمایا ہے کہ تیرے حقیقی تابعداروں کو ہی دوسروں پر قیامت تک غالب رکھو ں گا۔غرض شیطان اس آخری زمانہ میں پورے زور سے جنگ کر رہا ہے مگر آخری فتح ہماری ہی ہو گی۔یہ توتم جانتے ہی ہو اور تمہارے نزدیک یہ ایک معمولی سی بات ہے کہ حضرت عیسٰی مَر چکے ہیں اور اس بات میں تم نے ہر طرح سے فتح بھی حاصل کر لی ہے۔۱ شیطان کا مَرنا ابھی باقی ہے مگر شیطا ن کا مَرنا ابھی باقی ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ اس کا بہت ساتسلط ابھی تم لوگوں پر باقی ہے۔اکثر لوگ یہاں سے بیعت کر جاتے ہیں اور گھر میں پہنچ کر ایک خط ارتداد کا لکھ دیتے ہیں اور اس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ کوئی مولوی انہیں مل جاتا ہے جو طرح طرح کی باتیں سناکر اور ہم پر قسم قسم کے جھوٹے الزام قائم کرکے ان کو پھسلا دیتا ہے اور ان لوگوں میں بھی چونکہ شیطان کا بہت سا حصہ با قی ہوتا ہے اس لئے وہ شیطان سیرت لوگوں کے پھندوں میں بہت جلد پھنس جاتے ہیں۔چونکہ میں اپنے دعویٰ کے متعلق کتاب حقیقۃ الوحی میں مَیں بہت کچھ بیان کر چکا ہوں اور تم اس کو پڑھ بھی چکے ہو اس لئے اگر میں اس کے متعلق کچھ بیان کرو ں تو تقریر کا سلسلہ لمبا ہو جائے گا۔سو اس وقت تم لوگوں کو شیطان کی وفات کا مسئلہ یا د کر لینا چاہیے۔حضرت عیسیٰ کو جو ایک فرضی حیات مانی ہوئی تھی اس کو مارنے میں تم لوگ کامیاب ہو گئے ہو مگر شیطان کا مارنا ابھی باقی ہے مگر یا د رکھنا چاہیے کہ اس کا مارنا صرف اسی قدر نہیں ہے کہ صرف زبان سے ہی کہہ دیا جاوے کہ شیطان مَر گیا ہے اور وہ مَر جاوے بلکہ تم لوگوں کو عملی طور پر دکھانا چاہیے کہ شیطان مَر گیا ہے شیطا ن کی موت قال سے نہیں بلکہ حا ل سے ظاہر کرنی ۱ بدر سے۔’’اصل میں ہمارا وجود دو باتوں کے لیے ہے ایک تو ایک نبی کو مارنے کے لیے، دوسرا شیطان کو مارنے کےلیے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۹)