ملفوظات (جلد 10) — Page 49
مگر یسوع مسیح کی نسبت خود مسلمان بھی مانتے ہیں کہ وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں وغیرہ وغیرہ اور پھر کہتے تھے مسلمانو! تم خود منصف بن کے دیکھ لو کہ آیا یہ باتیں سچی ہیں یا نہیں ؟ تب ہمارے مفتی صاحب آگے بڑھے اور بشپ صاحب کو کہنے لگے کہ بتاؤ یہ باتیں قرآن شریف میں کہاں لکھی ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو مَر گئے ہیں اور عیسیٰ آسمانوں پر زندہ ہیں؟ قرآن مجید میں تو صاف طور پر عیسیٰ کی موت لکھی ہے اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ ( المائدۃ : ۱۱۸ ) اسی بات کی شہادت دے رہی ہے کہ عیسٰیؑ فوت ہو چکے ہیں تب بشپ صاحب سے اور تو کچھ بن نہ آیا گھبرا کر کہنے لگے ’’معلوم ہوتا ہے کہ تم مرزائی ہو ‘‘ پھر اس کے بعد وہ لوگ جو وعظ سن رہے تھے باہر آکر کہنے لگے کہ ’’ہیں تو کافر مگر آج تو عزت رکھ لی ہے ‘‘ روحانی ہتھیار اب ہمارے پاس ہیں غرض یاد رکھنا چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو اقبال دیتا ہے تو ہتھیار بھی ساتھ ہی دیتا ہے۔دیکھو جسمانی طور پر آجکل یورپ کا ہی بول بالا ہے مگر ہر ایک قسم کے عجیب عجیب ہتھیار بھی تو یورپ والوں نے ہی تیار کر رکھے ہیں یہاں تک کہ اگر سلطان روم کو بھی کسی ہتھیار کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ بھی انہیں سے منگوا بھیجتا ہے اسی طرح روحانی ہتھیار اب ہمارے ہاتھ میں ہیں۱ اور جس کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں وہ غلبہ کس طرح پا سکتا ہے؟ اب تم لوگ جہاں جاؤ گے کہو گے کہ عیسٰی مَر گیا اور اس کی وفات قرآن مجید میں موجود، احادیث صحیحہ میں موجود ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دی کہ میں نے معراج کی رات کو حضرت عیسٰی کو مُردوں میں دیکھا اور خود مَر کر دکھا دیا کہ مجھ سے پہلے جتنے نبی آتے رہے ہیں وہ سب کے سب فوت ہوچکے ہیں اور ایسے ہی کئی قسم کے اَور بھی چمکتے ہوئے دلائل خدا تعالیٰ نے تم ۱بدر سے۔’’خدا تعالیٰ نے ہمیں روحانی ہتھیار دیئے ہیں یہ خدا کا خاص فضل ہے جو قوم بے ہتھیار ہوتی ہے ضرور ہے کہ وہ تباہ ہوجائے۔یاد رہے کہ ہتھیاروں سے مراد روحانی قوتیں اور دلائل قاطعہ ہیں۔ظاہری سامان کی مذہب کے معاملہ میں ضرورت نہیں۔دیکھو! اگر مسیح کی وفات کا ہتھیار نہ ہوتا تو تم ان کے سامنے بات بھی نہیں کر سکتے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۹)