ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 48

حضرت عیسیٰ زندہ موجود ہیں اور وہی دوبارہ آئیں گے میں نے اُن سے کہا کہ اچھا یہ تو بتلاؤ کہ سوائے اس کے کہ کئی ہزار آدمی مرتد ہوگئے اور اس بات کا نتیجہ ہی کیا نکلا ہے؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔تب میں نے کہا کہ اچھا اس نسخہ کا تو آپ لوگوں نے تجربہ کر لیا ہے یہ تو غلط نکلا۔اب ہمارا نسخہ بھی چند روز استعمال کر کے دیکھ لو کہ نتیجہ کیا ہوتا ہے ۱ اس پر ایک شخص اُٹھا اور کہنے لگا اسلام کی سچی خیر خواہی جیسی آپ کررہے ہیں اور کوئی نہیں کر رہا۔آپ بڑی خوشی سے اپنے کام میں لگے رہیں۔موجود ہ مسلمانوں کے غلط عقاید غرض مسلمانوں کی عجیب حالت ہو رہی ہے۔بات بات میں پیچھے۔جگہ جگہ پر شکست۔ان کے نزدیک ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہو گئے ہیں مگر عیسیٰ زندہ ہیں اور ( نعوذ باللہ ) ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو مسِّ شیطان سے پاک نہیں تھے مگر عیسٰیؑ پاک تھا۔اور پھر بے باپ تھا تو عیسٰیؑ، پرندوں کا خالق تھا تو عیسیٰ، مردے زندہ کرتا تھا تو عیسیٰ، آسمان پر چڑھ گیا تھا اور پھر دوبارہ نازل ہو گا تو عیسٰیؑ۔اب بتلاؤ سوائے مرتد ہونے کے اس کا اور کیا نتیجہ ہو سکتا ہے ؟ غرض عیسٰیؑ کی زندگی مرتد کرنے کا آلہ ہے۔جو لوگ عیسائی ہو جاتے ہیں تو وہ ایسی ایسی باتیں ہی سن کر ہو جایا کرتے ہیں جن کا میں ذکر کر چکا ہوں۔مرزائی ہیں تو کافر مگر آج عزت رکھ لی ہے ایک دفعہ بشپ صاحب لاہور میں لیکچر دے رہے تھے اور اس قسم کی باتیں پیش کرتے تھے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صاحب تو فوت ہوچکے ہیں اور ان کی مدینہ میں قبر موجود ہے مگر یسوع مسیح کی نسبت خود مسلمان بھی مانتے ہیں کہ وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں وغیرہ وغیرہ اور پھر کہتے تھے مسلمانو! تم خود منصف بن کے دیکھ لو کہ آیا یہ باتیں سچی ہیں یا نہیں ؟ تب ہمارے مفتی صاحب آگے بڑھے اور بشپ صاحب کو کہنے لگے کہ بتاؤ یہ باتیں قرآن شریف میں کہاں لکھی ہیں کہ ۱ بدر سے۔’’اب ہمارے نسخے کو بھی چند روز آزما دیکھو کہ مسیح کی وفات ماننے میں اسلام کی زندگی اور صلیبی مذہب کی موت ہے یا نہیں۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۹)