ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 47

سب عیب جاتے رہیں گے اور انسان نجات پا جائے گا۔اب بتلاؤ کیا یہ صاف سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ وہی گمراہ کرنے والا گروہ ہے جس کو احادیث میں دجّال اور قرآن کریم میں ضالّین کر کے پکارا گیا ہے۔کسر صلیب اور قتل خنزیر اور پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صحیح بخاری میں آنے والے مسیح کی نسبت (جو کہ اس وقت آگیا ہے) جو لکھا ہے یَکْسِـرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْـخِنْـزِیْرَ یعنی وہ صلیبوں کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کرے گا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جنگلوں میں چوہڑوں اور چماروں کی طرح شکار کھیلتا پھرے گا اور گرجوں پر چڑ ھ کر صلیبیں توڑتا پھرے گا۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ خنز یر نجا ست کھانے والے کو کہتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ وہ نجا ست جانوروں کی ہی ہو۔بلکہ جھوٹ اور دروغ کی جو نجاست ہے وہ سب سے گندی اور بدبودار نجاست ہے اس لئے ایسے لوگوں کا جو ہر وقت جھوٹ اور فریب سے دنیا کو گمراہ کرتے رہتے ہوں اللہ تعالیٰ نے خنزیر نا م رکھا ہے اور یہ جو فرمایا یَکْسِـرُ الصَّلِیْبَ تو اس کے یہ معنے نہیں کہ مسیح جب آوے گا تو پتھر، تانبے اور لکڑی وغیرہ کی صلیبوں کو جو پیسے پیسے پر فروخت ہوتی ہیں توڑتا پھرے گا۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صلیبی مذہب کی بنیاد کو توڑے گا اب دیکھ لو کہ اُن کے مذہب کا تمام دارو مدار تو عیسٰیؑ کی زندگی پر ہے اور یہ نہیں کہ دوسرے انبیاء کی طرح وہ زندہ ہے بلکہ وہ ایسا زندہ ہے کہ پھر دوبارہ دنیا میں آئے گا اور خلقت کا فیصلہ کرے گا اور پھر معلوم نہیں کہ مسلمانوں میں عیسٰیؑ کی زندگی کا مسئلہ کہاں سے آگیا بد قسمتی سے انہوں نے بھی عیسائیوں کی ہاں میں ہاں ملانی شروع کر دی۔غرض سمجھنا چاہیے کہ عیسائیوں کے مذہب کی بنیاد تو صرف عیسٰیؑ کی زندگی پر ہے جب وہ مَر گیا تو پھر ان کا مذہب بھی ان کے ساتھ ہی مَر گیا۔لدھیانہ میں ایک دفعہ ایک پادری میر ے پاس آیا اثنائے گفتگو میں مَیں نے اسے کہا کہ عیسٰیؑ کی ۱بدر سے۔’’اس نے کہا کہ اگر مسیح کے زندہ ہونے کا عقیدہ نہ ہو تو پھر سب یکدم مسلمان ہوجائیں۔ہمارے مذہب کی روح یہی بات ہے جب یہ نکلی تو ہم بے جان ہوجائیں گے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۹)