ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 46

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶ جلد دہم کرنے میں بھی پوری ہمت اور کوشش سے کام لیتے ہیں۔ اور یہ جو حدیثوں میں دجال کا ذکر آیا ہے تو اس سے مراد خائین ہی ہیں اور اگر دجال کے معنے ضالین کے نہ لیے جاویں تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے ضالین کا ذکر تو قرآن شریف میں کر دیا بلکہ ان کے فتنہ عظیم سے بچنے کے لئے دعا بھی سکھا دی مگر دجال کا ذکر تک بھی نہ کیا حالانکہ وہ ایک ایسا عظیم فتنہ تھا جس سے لکھو کھا لوگ گمراہ ہو جانے تھے۔ غرض سچی بات یہی ہے کہ دجال اور ضالین ایک ہی گروہ کا نام ہے جو لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں اور اس آخری زمانہ میں اپنے پورے زور پر ہیں اور ہر ایک طرح کے مکر اور فریب سے خلقت کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے پھرتے ہیں اور چونکہ دجال کے معنے بھی گمراہ کرنے والے کے ہیں۔ اسی واسطے احادیث میں یہ لفظ ضالین کی بجائے بولا گیا ہے اور احادیث میں ضالین کی بجائے دجال کا لفظ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ لوگ اپنی طرف سے ایک دجال بنالیں گے اور عجیب عجیب قسم کے خیالات اس کی طرف منسوب کریں گے کہ اس کے ایک ہاتھ میں بہشت ہوگا اور ایک ہاتھ میں دوزخ اور وہ خدائی کا بھی دعویٰ کرے گا اور نبوت کا بھی اور اس کے ماتھے پر کافر لکھا ہوا ہو گا اور اس کا ایک گدھا ہوگا جس کے کانوں میں اس قدر فاصلہ ہوگا اور اس میں یہ یہ باتیں ہوں گی۔ اس لئے فرماتا ہے کہ وہ دجالی گروہ ضالین کا ہی ہے جو طرح طرح کے پیرایوں میں لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں اور بڑے بڑے وعدے دے دے کر خدا تعالیٰ کی کتابوں میں تحریف تبدیل کرتے ہیں اور لوگوں کو خدا تعالیٰ کے حکموں سے بالکل روگردان کر رہے ہیں یہاں تک کہ سور جیسی گندی چیز کو بھی حلال خیال کر رہے ہیں۔ حالانکہ توریت میں سور خاص طور پر حرام کیا گیا ہے اور خود مسیح نے بھی کہا ہے کہ سوروں کے آگے موتی مت ڈالو۔ اور ایسا ہی کفارہ جیسا گندہ مسئلہ ایجاد کر کے انہوں نے گناہوں کے لئے ایک وسیع میدان تیار کر دیا ہے خواہ انسان کیسے ہی کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو۔ مگر یسوع کو خدا یا خدا کا بیٹا سمجھنے سے وہ سب عیب جاتے رہیں گے اور انسان نجات پا جائے گا ۔ اب بتلاؤ کیا یہ صاف سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ و ہی گمراہ کرنے والا گروہ ہے جس کو احادیث میں دجال اور قرآن کریم میں ضالین کر کے پکارا گیا ہے۔