ملفوظات (جلد 10) — Page 46
کرنے میں بھی پوری ہمت اور کو شش سے کام لیتے ہیں۔اور یہ جو حدیثوں میں دجّال کا ذکر آیا ہے تو اس سے مراد ضالّین ہی ہیں اور اگر دجّال کے معنے ضالّین کے نہ لیے جاویں تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے ضالّین کا ذکر تو قرآن شریف میں کر دیا بلکہ ان کے فتنہ عظیم سے بچنے کے لئے دعا بھی سکھا دی مگر دجّال کا ذکر تک بھی نہ کیا حالانکہ وہ ایک ایسا عظیم فتنہ تھا جس سے لکھو کھہا لوگ گمراہ ہوجانے تھے۔غرض سچی بات یہی ہے کہ دجّال او رضالّین ایک ہی گروہ کا نام ہے جو لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں اور اس آخری زمانہ میں اپنے پورے زور پر ہیں اور ہر ایک طرح کے مکر اور فریب سے خلقت کو گمراہ کرنے کی کو شش کرتے پھرتے ہیں اور چونکہ دجّال کے معنے بھی گمراہ کرنے والے کے ہیں۔اسی واسطے احادیث میں یہ لفظ ضا لّین کی بجائے بولا گیا ہے اور احادیث میں ضالّین کی بجائے دجّال کا لفظ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ لوگ اپنی طرف سے ایک دجّال بنا لیں گے اور عجیب عجیب قسم کے خیالا ت اس کی طرف منسوب کریں گے کہ اس کے ایک ہاتھ میں بہشت ہو گا اور ایک ہاتھ میں دوزخ اور وہ خدائی کا بھی دعویٰ کرے گا اور نبوت کا بھی اور اس کے ماتھے پر کا فر لکھا ہوا ہوگا اور اس کا ایک گدھا ہو گا جس کے کانوں میں اس قدر فاصلہ ہو گا اور اس میں یہ یہ باتیں ہو ں گی۔اس لئے فرماتا ہے کہ وہ دجّالی گروہ ضالّین کا ہی ہے جو طرح طرح کے پیر ایوں میں لو گوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں اور بڑے بڑے وعدے دے دے کر خدا تعالیٰ کی کتابوں میں تحریف تبدیل کرتے ہیں اور لوگوں کو خدا تعالیٰ کے حکموں سے بالکل روگردان کر رہے ہیں یہاں تک کہ سؤر جیسی گندی چیز کو بھی حلال خیال کر رہے ہیں۔حالانکہ توریت میں سؤر خا ص طور پر حرام کیا گیا ہے اور خو د مسیحؑ نے بھی کہا ہے کہ سؤروں کے آگے موتی مت ڈالو۔اور ایسا ہی کَفّارہ جیسا گندہ مسئلہ ایجاد کر کے انہوں نے گناہوں کے لئے ایک وسیع میدا ن تیار کر دیا ہے خواہ انسان کیسے ہی کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو۔مگر یسوع کو خدایا خدا کا بیٹا سمجھنے سے وہ سب عیب جاتے رہیں گے اور انسان نجات پا جائے گا۔اب بتلاؤ کیا یہ صاف سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ وہی گمراہ کرنے والا گروہ ہے جس کو احادیث میں دجّال اور قرآن کریم میں ضالّین کر کے پکارا گیا ہے۔