ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 45

ساری عمر میں ایک دفعہ بھی انجیل پڑھی ہوئی نہیں ہوتی۔ان پادریوں پر اسلام ایک بڑا بھاری صدمہ ہے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب جس کو وہ مغلوب نہیں کر سکتے۔آریہ مذہب آریوں کا کیا ہے جن کے مذہب میں نیوگ جیسی گندی رسم موجود ہو اور جن کو حکم ہو کہ اولاد کی خاطر اپنی جوان اور پیاری بیوی کو غیر آدمی سے ہمبستر کرا لیا کرو اور جو باوجود اس کے کہ خود جوان اور تندرست ہوتے ہیں اپنی پاک دامن عورت کو دوسرے نوجوانوں سے ہمبستر کراکے دس پتروں تک اولاد حا صل کر سکتے ہیں اور جن کا پرمیشر ایک مکھی تو درکنار ایک ذرّہ بھی پیدا نہ کر سکتا ہو وہ کب کسی مذہب پر غلبہ پا سکتے ہیں۔عیسائیت کا عظیم فتنہ عیسائی تو اسلام کے مقابلہ پر کسی صورت میں نہیں ٹھہر سکتے کیوں کہ انہوں نے ایک انسان کو جس کا باپ بھی موجود تھا۔چار بھائی اور دو بہنیں بھی تھیں اور پھر یہودیوں کے ہاتھ سے ماریں بھی کھاتا پھرتا تھا خدا تجویز کر لیا ہے اور اپنی نجات کے لئے اس کو لعنتی موت سے مَرا ہوا سمجھ لیا ہے حالانکہ دنیا بھر میں یہ کوئی قاعدہ نہیں کہ سر درد تو ہو زید کو اور بکر اپنے سر کو پتھر مار کر پھوڑ لے اور پھر اس سے زید کی سر درد جاتی رہے۔۱ سوچنا چاہیے کہ گناہ تو کیا زید نے مگر بکر اُس کی جگہ سولی چڑھے یہ کہاں کا انصاف ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ گلے پڑا ڈھول بجا رہے ہیں ورنہ ان کے دل تو اس عقیدہ سے متنفر ہیں اور اب تو خدا کی طرف سے توحید کی ہوا چل رہی ہے اور بہت سے لوگ اس انسان پر ستی کو چھوڑ کر خدا پر ستی اختیار کر تے جاتے ہیں۔۲ ۱ بدر سے۔’’میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ ایک مسلمان کا بچہ ان لغویات کو قبول نہیں کر سکتا۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۸) ۲بدرسے۔’’ولایت کے جو سمجھدار لوگ ہیں وہ خود اس بات کو چھوڑتے جاتے ہیں۔مبارک زمانہ آگیا۔توحید کی ہوا چل رہی ہے۔عنقریب تمام دنیا جان لے گی کہ ہر جگہ پر اسلام کے سوا ضلالت ہے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۸)