ملفوظات (جلد 10) — Page 44
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴ جلد دہم گائیاں ذبح ہوتی ہیں اور تم اذان کو روتے ہو۔ جاؤ چپکے ہو کر بیٹھ رہو۔ ایسے ہی بٹالہ کا واقعہ ہے ایک سیدو ہیں کا رہنے والا باہر سے دروازے پر آیا وہاں گائیوں کا ہجوم تھا۔ اس نے تلوار کی نوک سے مویشوں کو ذرا ہٹایا ۔ ایک گائے کے چمڑے کو خفیف سی خراش پہنچ گئی تھی اس پر اس بیچارہ کو پکڑ لیا گیا اور اس امر پر زور دیا گیا کہ اس کو قتل کر دیا جاوے۔ آخر بڑی سفارش کے بعد جان سے تو بچ گیا لیکن اس کا ہاتھ ضرور کاٹا گیا۔ ایسے ہی ایک گائے کے مقدمہ میں ایک دفعہ پانچ ہزار غریب مسلمان قتل کئے گئے ۔ اب دیکھو کہ اس حکومت کا وجود ایک مبارک وجود ہے یا نہیں؟ ایک حدیث میں آیا کہ تمہارا حاکم بد ہو تو وہ بد نہیں ۔ اصل میں تم ہی بد ہو۔ سو یا د رکھو کہ یہ لوگ بڑے انصاف پسند ہوتے ہیں۔ ہمارے مقدمہ میں ہی دیکھ لو کہ آتما رام نے تو سات سور و پیہ جرمانہ کر ہی دیا تھا مگر سیشن سامنے جب وہ کا غذات پیش ہوئے تو باوجود یکہ وہ عیسائی تھا مگر انصاف کی خاطر اس نے تمام دن محنت کی اور پورے غور اور فکر کے بعد کرم الدین کو بلا کر کہا کہ تم لئیم کے معنے ولد الزنا اور کذاب کے معنے بڑا جھوٹا کرتے ہو۔ اگر کسی کو اُ تو کہا جاوے تو اُ تو چھوٹا کیا اور بڑا کیا؟ جو کچھ فیصلہ آتما رام نے کیا ہے وہ غلط ہے۔ ہم جرمانہ واپس کرتے ہیں۔ اگر لئیم کذاب سے بڑھ کر بھی تم کو کہا جاتا تو یہ شخص حق رکھتا تھا۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہیے کہ ہندوؤں سے بالکل جوڑ نہ رکھیں ۔ اگر انگریز آج یہاں سے نکل جاویں تو یہ ہندو مسلمانوں کی بوٹی بوٹی کر دیں ۔ اب نتیجہ یہ ہے کہ یہ جو میں نے ضالین سے مراد انگر یہ نہیں بلکہ عیسائی پادری ہیں انہیں کہا ہے تو اسے مراد عیسائی اور پادری ہیں انگریز اس سے مراد نہیں ۔ کیونکہ انگریز تو اکثر ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے ساری عمر میں ایک دفعہ بھی انجیل پڑھی ہوئی نہیں ہوتی ۔ ان پادریوں پر اسلام ایک بڑا بھاری صدمہ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲ مورخه ۶ رجنوری ۱۹۰۸ صفحه ۲ تا ۴