ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 42

قصور اس کے اختیار سے باہر نہیں ہوتا۔مثلاً فرض کرو کہ کسی بھاری سے بھاری گناہ پر وہ اپنی طرف سے ۵۰،۶۰ روپیہ جرمانہ کر سکتا ہے لیکن اگر قصور وار زیا دہ کا حقد ار ہو تو پھر تحصیلدار یہ کہہ کر کہ یہ میرے اختیار سے باہر ہے اور کہ تمہاری سزا کا یہاں موقع نہیں کسی اعلیٰ افسر کے سپرد کرتا ہے۔اسی طرح یہودیوں کی شرارتیں اور شوخیاں اسی حد تک ہیں کہ ان کی سزا اسی دنیا میں دی جا سکتی تھی لیکن ضالّین کی سزا یہ دنیا برداشت نہیں کرسکتی کیونکہ ان کا عقیدہ ایسا نفرتی عقیدہ ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا( مریم : ۹۱، ۹۲ ) یعنی یہ ایک ایسا بُرا کام ہے جس سے قریب ہے کہ زمین آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔غرض یہودیوں کی چونکہ سزا تھوڑی تھی اس لئے ان کو اسی جہان میں دی گئی اور عیسائیوں کی سزا اس قدر سخت ہے کہ یہ جہان اس کی برداشت نہیں کرسکتا اس لئے ان کی سزا کے واسطے دوسرا جہان مقرر ہے اور پھر یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ یہ عیسائی صرف ضالّ ہی نہیں ہیں بلکہ مُضِلّ بھی ہیں۔ان کا دن رات یہی پیشہ ہے کہ اَوروں کو گمراہ کرتے پھریں۔پچاس پچاس ہزار، ساٹھ ساٹھ ہزار بلکہ لاکھوں پرچے ہر روز شائع کرتے ہیں اور اس باطل عقیدہ کی اشاعت کے لئے ہر طرح کے بہانے عمل میں لاتے ہیں۔انگریز قوم کی انصاف پسندی یا د رکھو! گورنمنٹ کو ان پادریوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ایک انگریز یہا ں آیا تھا۔جاتی دفعہ پوچھنے لگا کہ میرے راستہ میں کسی پا دری کی کوٹھی تو نہیں ؟ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پا دریوں سے سخت نفرت کرتا تھا۔۱ یہ لوگ بڑ ے منصف مزاج ہوتے ہیں۔اگر یہ منصف نہ ہوتے تو حکومت نہ رہتی۔یاد رکھنا ۱ بدر میں مزید لکھا ہے۔’’ایک اَور انگریز تھا جس کی عدالت میں ہمارا مقدمہ ہوا۔فریق مخالف ایک جنٹلمین پادری تھا۔آٹھ دس گواہ بھی گذارے اور یوں بھی تم جانتے ہو کہ حکام کے اختیار میں سب کچھ ہوتا ہے قومیت کا سوال بھی تھا مگر میں نے سنا کہ اس نے صاف کہہ دیا کہ مجھ سے یہ بد ذاتی نہیں ہو سکتی کہ کسی بے گناہ کو سزا دوں۔مجھے بلا کر کہا آپ کو مبارک ہو۔اگر یہ لوگ ان اوصاف والے نہ ہوتے تو ہمارے حاکم بھی نہ ہوتے۔مسلمانوں میں جب یہ حالت