ملفوظات (جلد 10) — Page 37
یہی نمازیں تھیں جن کو پڑھنے سے بہت سے لوگ قطب اور ابدال بن گئے مگر تم کو کیا ہوگیا جو باوجود اُن کے پڑھنے کے کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا۔۱ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب تم کوئی دوا استعمال کرو گے اور اس سے اگر کوئی فائدہ محسوس نہ کرو گے تو آخر ماننا پڑے گا کہ یہ دوا موافق نہیں۔یہی حال ان نمازوں کا سمجھنا چاہیے۔ع برکریماں کار ہا دشوار نیست حقیقی مومن کبھی ضائع نہیں ہوتا جو شخص سچے جوش اور پورے صدق اور اخلاص سے اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضا ئع نہیں ہوتا۔یہ یقینی اور سچی بات ہے کہ جو خدا کے ہوتے ہیں خدا ان کا ہوتا ہے اور ہر ایک میدان میں ان کی نصرت اور مد د کرتا ہے بلکہ ان پر اپنے اس قدر انعام و اکرام نازل کرتا ہے کہ لوگ ان کے کپڑوں سے بھی برکتیں حاصل کرتے ہیں۲ اللہ تعالیٰ نے یہ جو دعا سکھائی ہے تو یہ اس واسطے ہے کہ تا تم لوگوں کی آنکھ کھلے کہ جو کام تم کرتے ہو دیکھ لو کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا ہے؟ اگر انسان ایک عمل کرتا ہے اور اس کا نتیجہ کچھ نہیں تو اس کو اپنے اعمال کی پڑتال کرنی چاہیے کہ وہ کیسا عمل ہے جس کا نتیجہ کچھ نہیں! سورۃ فاتحہ میں ایک پیشگوئی پھر اس کے آگے خدا فرماتا ہےغَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ( الفاتـحۃ : ۷) یعنی اے مسلمانو! تم خدا سے دعا مانگتے رہو کہ یا الٰہی! ہمیں ان لوگوں میں سے نہ بنانا جن پر اس دنیا میں ہی تیرا غضب نازل ہوا ہے اور نہ ہی ان لوگوں کا راستہ دکھانا جو کہ راہِ راست سے گمراہ ہوگئے ہیں اور یہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یہ بطور قصہ یا کتھا کے بیان نہیں کیا بلکہ وہ جانتا تھا کہ جس طرح پہلی قوموں نے بدکاریاں ۱ بدر سے۔’’ آخر سوچنا چاہیے کہ یہی نماز تھی جس سے لوگ قطب ہوگئے غوث ہوگئے اور تم اسی طرح تحت الثریٰ میں پڑے رہو۔یہ بات کیا ہے؟‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۷) ۲بدر سے۔’’وہ اپنے خاص بندوں پر ایسے ایسے فضل کرتا ہے کہ زمین و آسمان اس کے تابع کر دیتا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۷)