ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 398

دیکھو! ہر ایک خصوصیت جو کہیں کسی خاص شخص کے متعلق پیدا کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کا ضرور جواب دیا ہے مگر کیا وجہ کہ اتنی بڑی خصوصیت کا کوئی جواب نہ دیا؟ خصوصیت ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے شرک پیدا ہوتا ہے۔فقط یہ حضرت اقدسؑ کی زندگی میں آپ کی آخری تقریر ہے جو آپ نے بڑے زوراورخاص جوش سے فرمائی۔دوران تقریر میں آپ کا چہرہ اس قدر روشن اور درخشاں ہوگیا تھا کہ نظر اٹھا کردیکھا بھی نہیں جاتا تھا۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تقریر میں ایک خاص اثر اورجذب تھا۔رعب، ہیبت اورجلال اپنے کمال عروج پر تھا۔بعض خاص خاص تحریکات اورموقعوں پر حضرت اقدسؑ کی شان دیکھنے میں آئی ہوگی جو آج کے دن تھی۔اس تقریر کے بعد آپؑنے کوئی تقریر نہیں فرمائی۔۱ (فقط مرتّبہ عبدالرحمٰن قادیانی ) آخری دن ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء (بوقتِ نماز فجر ) جب فجر کی نماز کی اذان کان میں پڑی تو (حضور علیہ السلام) نے پوچھا کہ ’’کیا صبح ہوگئی ؟‘‘ جواب ملنے پر فجر کی نماز کی نیت باندھی اوراداکی۔آخری الفاظ وہ الفاظ جن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے رفیق ِاعلیٰ سے جاملے یہ تھے۔’’اے میرے پیارے! اے میرے پیارے!! اے میرے پیارے اللہ اے میرے پیارے اللہ ‘‘ ۲ ۱ الحکم جلد ۱۲نمبر ۴۲مورخہ ۱۸؍جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۷،۸ ۲ الحکم جلد ۱۵نمبر ۱۹،۲۰مورخہ ۲۱و۲۸؍مئی ۱۹۱۱ء صفحہ ۲۴،۲۵