ملفوظات (جلد 10) — Page 398
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۸ جلد دہم دیکھو! ہر ایک خصوصیت جو کہیں کسی خاص شخص کے متعلق پیدا کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ضرور جواب دیا ہے مگر کیا وجہ کہ اتنی بڑی خصوصیت کا کوئی جواب نہ دیا ؟ خصوصیت ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے شرک پیدا ہوتا ہے ۔ فقط یہ حضرت اقدس کی زندگی میں آپ کی آخری تقریر ہے جو آپ نے بڑے زور اور خاص جوش سے فرمائی ۔ دوران تقریر میں آپ کا چہرہ اس قدر روشن اور درخشاں ہو گیا تھا کہ نظر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں جاتا تھا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریر میں ایک خاص اثر اور جذب تھا۔ رعب، ہیبت اور جلال اپنے کمال عروج پر تھا۔ بعض خاص خاص تحریکات اور موقعوں پر حضرت اقدس کی شان دیکھنے میں آئی ہوگی جو آج کے دن تھی ۔ اس تقریر کے بعد آپ نے کوئی تقریر نہیں فرمائی ۔ اے ( فقط مرتبه عبد الرحمن قادیانی ) ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء (بوقت نماز فجر ) آخری دن جب فجر کی نماز کی اذان کان میں پڑی تو ( حضور علیہ السلام ) نے پوچھا کہ کیا صبح ہو گئی ؟“ جواب ملنے پر فجر کی نماز کی نیت باندھی اور ادا کی ۔ آخری الفاظ وہ الفاظ جن پر حضرتمسیح موعود علیہ السلام اپنے رفیق اعلی سے جاملے یہ تھے۔ اے میرے پیارے ! اے میرے پیارے !! اے میرے پیارے اللہ اے میرے پیارے الله ے اللہ ،، الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۸ جولائی ۱۹۰۸ ء صفحہ ۸،۷ الحکم جلد ۱۵ نمبر ۱۹ ، ۲۰ مورخه ۲۱ و ۲۸ رمئی ۱۹۱۱ء صفحه ۲۴، ۲۵