ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 390 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 390

کامل ایمان نہیں یا جلدی سے تھک کر اس سے ناامید ہوکر اوروں کی طرف دامن حاجت پھیلانا خرگدائی کے بالکل خلاف ہے۔ایک چھوڑ کر دوسرا اوردوسرا چھوڑ تیسرا خدابنانا اور ان سے اپنی حاجتیں چاہنا بالکل غلط راہ ہے بلکہ چاہیے کہ ایک کو پکڑو اور اسی سے اپنی ساری حاجتیں چاہو اور وہ سب کا حاجت رواہے شرط صبر اوراستقلال اورایمان ہے۔(اتنا حصہ سن کر انہوں نے عرض کی کہ بات توسچی ہے مگر حضرت اقدس کے منشا کو پاکر حضرت اقدس چاہتے ہیں کہ چلی جائیں پھر نرمی سے عرض کی کہ ہم دُورسے آئی ہیں۔پنکھا ہلانے کی خواہش ہے اورصرف درشن اورباتیں سننے کو آئی ہیں۔اب فرمائیے کہ پرمیشر سے پر ارتھنا کیسے کیا کریں؟) فرمایا۔پرارتھنا بے شک اپنی زبان میں کرلیا کرو۔یوں کہا کرو کہ اے سچے اور واحد خدا! اے کہ تو ساری مخلوق کا پید اکرنے والا اور پالنے والا ہے اورسب کے حالات سے واقف ہے! تجھ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں اور ہر ذرّہ تیرے تصرّف میں ہے توجو چاہے سو کر سکتا ہے۔توہمیں گناہ اوربھرشٹ زندگی سے نکال کرسیدھا راستہ بتا۔ایسا ہوکہ ہم تیری مرضی کے موافق ہوجاویں۔بدیو ں سے ہمیں بچا۔بدیاں ہمارے اختیار میں نہیں ہیں۔ہم چاہتی ہیں کہ یہ ہم سے دُور ہوجاویں۔ان کا تو آ پ ہی کوئی علاج فرما۔ان کا دُورکرنا ہماری طاقت سے دُور ہے اورایسا ہو کہ ہم تیری رضا کی راہوں پر چل کر ہمیشہ کی نجات اورسکھ کی وارث ہوجاویں اورکوئی دکھ ہمارے نزدیک نہ آوے۔پہلے بدکرموں کے پھل سے بچا اور آئندہ نیک کرمو ں کی توفیق عطا فرما۔اس طرح سے خدا سے سچے دل سے اورنیک نیتی سے خرگدا کی طرح پکّی بن کر اسی سے نہ کسی اور سے دعاکیا کرو اور سب دیوی دیوتے ترک کردو۔آخر اس طرح کی سچی تڑپ اوردعا سے ایسا دن آجاوے گا کہ دلوںکے سب گنددھودئیے جاویں گے اورشانتی اور سکھ کی زندگی شروع ہوجاوے گی۔فقط فرمایا۔ان عورتو ں کی حالت سے ٹپکتا تھا کہ شریف اورمخلص عورتیں تھیں۔لاہور جیسے شہر میں ایسی شریف اورنیک عورتوں کا وجود غنیمت ہے۔فقط۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۷ مورخہ ۶؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۶،۷ نیز بدر جلد ۷ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۸؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۰،۱۱