ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 387

سے بہت کچھ سمجھ گئے ہیں۔ہماراتو خود کبھی بھی یہ منشانہیں کہ ان لوگوں کے مسلّمہ بزرگوں کو گالیاں دی جائیں یا ان کی عزّت نہ کی جاوے اور اسی طرح ہم ان سے بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ لوگ بھی اتنا ہی کریں خواہ ایمان نہ لاویں مگر ان کو بُرا بھی نہ کہیں اورکہہ دیں کہ سچا مانتے ہیں۔یہ (جو) موجودہ زمانہ میں پھوٹ اورنفاق کا سلسلہ جاری ہے اس کو بندکردیں اوربالکل ممانعت کردیں کہ باہم ایک دوسرے مذہب کی مخالفت میں ہتک آمیز کلمات اورکتابیں بالکل بند کردی جاویں اور چھاپی ہی نہ جاویں اور ایک ایسی ہوا چل جاوے کہ آپس میں محبت ہو اور اتفاق بڑھے۔جس طرح سے ایک ہوا پہلے چل گئی تھی کہ بچہ بچہ بھی اسلام سے متنفّر تھا۔اس طرح کی ایک ایسی ہواچل جاوے کہ باہمی اخوت اور اتحاد بڑھے اور نفاق اوربغض وتعصب دلوں سے نکل جاوے۔عقیدت اوراعتقاد فرمایا۔قاعدہ کی بات ہے انسان کو ایک مخفی اَمر پر جتنا اعتقاد ہوتا ہے اس پر اتنا اعتقاد نہیں رہتا جب وہ ظاہر ہوکر سامنے آجاوے۔مثلاً ان ہندوئوں کے دیوی دیوتا جتنے بھی ہیں اور ان پر ان کو کامل اعتقاد ہے اگر وہ ان کے روبر وآجاویں توان لوگوں کے دلوں میں ہرگز ان کی اتنی وقعت نہ رہے۔یہ نبیوں ہی کا کام ہے کہ وہ اپنی شکل بھی دکھادیتے ہیں اوراپنی عظمت بھی دلوں میں قائم کرجاتے ہیں۔مسیحؑ جن کو آجکل لوگ خدا مانتے ہیں اگر وہ یہاں آجاویں اورلوگوں کے حلقے میں بیٹھیں توممکن نہیں کہ ان کی پرانی خدائی کی عظمت بھی لوگوں کے دلوں میں رہ سکے چہ جائیکہ وہ کچھ اورخدائی کا دبدبہ بٹھاسکیں کیونکہ لوگوں نے جس خیال سے ان کو خدا تسلیم کیا ہواہے ظاہر ہوجانے پر ان میں وہ باتیں نہ پاکر ضرور ہے کہ انکار کردیں۔قاعدہ کی بات ہے کہ انسان جب کسی خاص شخص کے متعلق کوئی اعتقاد پیدا کرتا ہے تو ساتھ ہی اس کی ایک خیالی تصویر بھی اس کے ذہن میں آجاتی ہے۔جب تک وہ اس کی نظروں سے غائب تھی جب تک توخیر مگر جب وہ شخص یا چیز اس کے سامنے آجاتی ہے اورانسان اس کو اپنے خیالی بُت یا تصویر کے خلاف پاتا ہے تواس کے دل سے اس کی عظمت اُٹھ جاتی ہے یا کم ازکم وہ عزت نہیں رہتی۔چنانچہ یہی حال ان لوگوں کے مصنوعی خدا کا ہے۔