ملفوظات (جلد 10) — Page 383
کہ نخوت اورتکبر سے بکلّی پاک ہوں اور ہماری صحبت میںرہ کر یا کم ازکم ہماری کتابوںکا کثرت سے مطالعہ کرنے سے ان کی علمیت کامل درجہ تک پہنچی ہوئی ہو۔البتہ شیخ غلام احمد اس کام کے واسطے اچھا آدمی معلوم ہواہے۔اس کے کلام میں بھی تاثیر ہے اور اخلاص ومحبت سے اس نے اپنے اوپر اس شدت گرمی میں اتنا وسیع دورہ کرنے کا بوجھ اٹھایا ہے۔کچھ خدا کی حکمت ہے کہ لوگ اس کا کلام سننے کے واسطے جمع بھی ہوہی جاتے ہیں ایک جگہ اس کو پتھر بھی پڑے مگر خدا کی قدرت سے وہ پتھر بجائے ان کے کسی دوسرے کولگااوروہ زخمی ہوا۔تبلیغ سلسلہ کے واسطے ایسے آدمیوں کے دوروں کی ضرورت ہے مگر ایسے لائق آدمی مل جاویں کہ وہ اپنی زندگی اس راہ میں وقف کردیں۔آنحضرتؐکے صحابہؓ بھی اشاعتِ اسلام کے واسطے دور دراز ممالک میں جایا کرتے تھے۔یہ جوچین کے ملک میں کئی کروڑ مسلمان ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی صحابہ ؓ میں سے کوئی شخص پہنچا ہوگا۔اگر اسی طرح بیس یا تیس آدمی متفرق مقامات میں چلے جاویں توبہت جلدی تبلیغ ہوسکتی ہے مگر جب تک ایسے آدمی ہمارے منشا کے مطابق اورقناعت شعارنہ ہوں۔تب تک ہم ان کو پورے پورے اختیارات بھی نہیں دے سکتے۔آنحضرتؐکے صحابہ ؓ ایسے قانع اورجفاکش تھے کہ بعض اوقات صرف درختوں کے پتّوں پر ہی گذر کرلیتے۔تمام ہندوستان ہمارے دعاوی سے ایسا بے خبر پڑا ہے کہ گویا کسی کو خبر ہی نہیں۔میرے نزدیک یہ مدرسہ یاکالج وغیر ہ کا بنانا اوّل سلسلہ کی مضبوطی پر موقوف ہے۔اوّل چاہیے کہ سلسلہ میں ایسے لوگ ہوں جو سلسلہ کی ضروریات کی مددکرنے والے ہوں۔جب سلسلہ کی ضروریات مثل لنگر وغیرہ ہی پوری نہیں ہوتیں تواور کاموں میں بہت توجہ کرنا بھی بے فائدہ ہے۔اگر کچھ ایسے لائق اور قابل آدمی سلسلہ کی خدمات کے واسطے نکل جاویں جو فقط لوگوں کو اس سلسلہ کی خبر ہی پہنچادیں تو بھی بہت بڑے فائدہ کی توقع کی جاسکتی ہے۔