ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 372

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۲ جلد دہم وقت ہمارے ذہن میں آتا ہے وہ خدا پر ہرگز ہرگز اطلاق نہیں پاسکتا۔ یہ غلطی ہے۔ فطرت انسانی میں یہ رکھا گیا ہے کہ جب کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کے فراق سے اس کو صدمہ بھی پہنچتا ہے۔ ماں اپنے بچے سے محبت کرتی ہے، مگر اگر اس کا بچہ اس سے جدا ہو جاوے تو اس کو کیسا صدمہ ہوتا ہے اور کتنا دکھ اور رنج پہنچتا ہے۔ اسی طرح سے جو شخص کسی دوسرے پر غضب کرتا ہے اوّل وہ خود اپنے آپ میں اس کا صدمہ اور اثر پاتا ہے گو یا دوسرے کو سزا دینے کے ساتھ ہی خودا پنی جان کو بھی سزا دیتا ہے ۔ غضب ایک دکھ ہے جس کا اثر پہلے اپنی ہی ذات پر پڑتا ہے اور ایک قسم کی تلخی پیدا ہو کر طبیعت میں سے راحت اور چین نکل جاتا ہے مگر خدا ان باتوں سے پاک ہے۔ پس اس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ ان الفاظ کا اطلاق اس رنگ میں جس رنگ میں ہم انسان پر کرتے ہیں اور جو مفہوم ان کا انسانی تعلق میں ہو سکتا ہے اس رنگ میں خدا پر نہیں بول سکتے اور نہ ہی وہ خدا پر صادق آتے ہیں۔ اس واسطے ہم ان الفاظ کو پسند نہیں کرتے ۔ یہ ان لوگوں کا بنایا ہوا لفظ ہے جو خدا کو محض انسانی حالت پر قیاس کرتے ہیں وہ پاک ذات ہے۔ جو اس کی رضا کے موافق چلتا ہے اس سے اس کا تعلق زیادہ سے زیادہ ہوتا جاتا ہے ہاں البتہ استعارہ کے رنگ میں محبت اور غضب کا لفظ خدا کے لئے بھی بولا جا سکتا ہے۔ پس یا درکھو کہ یہ ایک دنیا کا کارخانہ ہے جس کے واسطے خدا تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت سے موجودہ نظام مقرر فرمایا ہے اور یہ اس نظام کے ماتحت اس طرح سے چل رہا ہے البتہ اس کے واسطے یہ الفاظ موزوں نہیں ہیں ۔ محبت کا لفظ ایک درد اور گداز رکھتا ہے۔ اگر فرض بھی کر لیں کہ خدا محبت ہے اور اس کی صفت غضب بھی ہے ( انسانی حالت کے خیال سے ) تو پھر ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خدا کو بھی ایک قسم کی تکلیف اور رنج و دکھ ہوتا ہے۔ مگر یاد رکھو ایسے ناقص الفاظ خدا کی طرف منسوب نہیں کئے جا سکتے ۔ سوال۔ یہ تو میں نے سمجھ لیا ہے مگر میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ خدا نے یہ خاصہ کیوں رکھ دیا کہ