ملفوظات (جلد 10) — Page 371
ان کے اندر ہی سے بولتا ہے۔یہ اس میں ایک عجیب بات ہے کہ باوجود دور ہونے کے وہ نزدیک ہے اور باوجود نزدیک ہونے کے وہ دور ہے۔وہ بہت ہی قریب ہے مگر پھر بھی نہیں کہہ سکتے کہ جس طرح ایک جسم دوسرے جسم سے قریب ہوتا ہے اور وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی چیز بھی ہے۔وہ سب چیزوں سے زیادہ ظاہر ہے مگر پھر بھی وہ عمیق در عمیق ہے۔جس قدر انسان سچی پاکیزگی حاصل کرتا ہے اسی قدر اس کے وجود پر اس کو اطلاع ہوتی ہے۔فرمایا۔جذبات سے مراد غالباً ان کی یہ ہے کہ خدا نے انسان کے ذمے شریعت کا بوجھ کیوں ڈال رکھا ہے اور حلال و حرام کی پابندی میں اسے کیوں قید کررکھا ہے؟ سوجاننا چاہیے کہ اصل بات یہ ہے کہ خدا نہایت درجہ قدوس ہے وہ اپنی تقدیس کی وجہ سے ناپاکی کو پسند نہیں کرتا اور چونکہ وہ رحیم کریم ہے اس واسطے نہیں چاہتا کہ انسان ایسی راہوں پر چلے جن میں اس کی ہلاکت ہو۔پس یہ اس کے جذبات ہیں جن کی بنا پر مذہب کا سلسلہ جاری ہے۔اب ان کانام خواہ آپ کچھ ہی رکھ لو۔سوال۔کیا خدا کی کوئی شکل ہے؟ جواب۔جب وہ محدود ہی نہیں تو شکل کیسی ؟ سوال۔جب خدا محبت ہے۔عدل ہے۔انصاف ہے تو کیا وجہ کہ نظام دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے بعض چیزوں کو بعض کی خوراک بنادیا ہے۔اگر محبت اور عدل یا انصاف و رحم اس کے ذاتی خاصے ہیں تو کیا وجہ کہ اس نے مخلوق میں سے بعض میں ایسی کیفیت اور قویٰ رکھ دئیے ہیں کہ وہ دوسروں کو کھا جائیں حالانکہ مخلوق ہونے میں دونوں برابر ہیں۔جواب۔جب محبت کا لفظ خدا کی نسبت بولا جاتا ہے تو اس کو انسانی محبت پر قیاس کر لینا بڑی بھاری غلطی ہے۔محبت کا لفظ جس طرح انسانوں میں اطلاق پاتا ہے اور جو مفہوم اس کا انسانی تعلقات کی حیثیت میں سمجھا جاتا ہے وہ ہرگز ہرگز خدا پر اطلاق نہیں پاسکتا۔اورنہ ہی وہ معنے اور مراد خدا پر صادق آتے ہیں۔انسان میں محبت اور غضب کی قوت ہے مگر جومفہوم ان کا انسان کے متعلق بولتے