ملفوظات (جلد 10) — Page 353
عیسائیوں کی دوڑ کفارہ مسیح تک ہے۔باپ، بیٹا اور روح القدس تین ہیں۔مگر تین مت کہو ایک کہو۔یہ عجیب گورکھ دھند اہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔یہودی بھی بڑے سخت دل ہیں اور طرح طرح کے شرک میں مبتلا ہیں ان کو اس طرف توجہ ہی نہیں۔آجکل کے آریہ صاحبان جن کو اسلام کے خلاف اپنے عقائد پر بڑا گھمنڈ اور ناز ہے ان کا مذہب ہے کہ روح بمع اپنے تمام صفات کے اورمادہ بمع اپنے تمام صفات کے خود بخود ہیں اوراعتقاد رکھتے ہیں کہ نیستی سے ہستی ممکن نہیں۔غرض انہوں نے ذرّہ ذرّہ کو خدا کا شریک بنارکھا ہے۔انسانی ظاہری قویٰ کو تو خدا کی طرف سے مانتے ہیں مگر کہتے ہیںکہ روح میں جو قویٰ ہیں وہ خود بخود ہیں خدا کی طرف سے نہیں۔وہ مانتے ہیں کہ ارواح اورذرّات بمع اپنے قویٰ کے خود بخود موجود ہیں۔خدا کا کام صرف ان کوجوڑنا ہی ہے مگر ہم پوچھتے ہیں کہ کیوں جائز نہیں کہ باہمی جوڑ ملاپ کی طاقت بھی ان کی اپنی ذاتی خاصیت نہ مانی جاوے؟ غرض تازہ معجزات کے یہ لوگ منکر ہیں۔وید میں معجزات کا کوئی ذکر نہیں تو پھر خدا کے وجود پر نشانی ہی کیا ہے؟ اوراس کی زندگی کی علامت ہی کیا؟ جب دوحصے خود بخود موجود ہیں تو پھر کیوں نہ مان لیا جاوے کہ تیسر احصہ (باہمی جڑجانے کی خاصیت )بھی خود بخود ہے۔جب ایک اہم کام خود بخود ہے تو سہل کے واسطے کیوں کسی کی احتیاج مانی جاوے؟ غرض یہ خدا کا خاص فضل ہے جو صرف اسلام ہی کے شامل حال ہے کہ اسلام کی کوئی بھی تعلیم عقل سلیم اور فطرت سلیم کی مخالف نہیں۔لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ایک قول ہے۔اس کا عملی ثبوت بَلٰى مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ (البقرۃ :۱۱۳) فعل ہے۔نراقول (ایمان کا دعویٰ ) کسی کام کا نہیں اورنہ ہی وہ کچھ مفید ہوسکتا ہے۔خشک ایمان ایک بے بال وپَر مرغ کی مثال ہے جو ایک مُضغہ گوشت ہے جونہ چل پھر سکتا ہے نہ اڑنے کی اس میں طاقت ہے بلکہ اسلام اس کو کہتے ہیں کہ انسان باوجود ہیبت ناک نظارے دیکھنے اوراس اَمر پر یقین ہونے کے کہ اس مقام پر کھڑا ہونا ہی گویا جان کو خطرہ میں ڈالنا ہے پھر بھی خدا کی راہ میں سرڈال دے اورخدا کی راہ میں اپنے کسی نقصان کی پروا