ملفوظات (جلد 10) — Page 352
کیا بلحاظ اپنی ظاہری حالت کے اور کیا بلحاظ اپنی باطنی حالت کے ابتری کے انتہائی درجہ تک پہنچ گئی ہے اورہر فرقہ پر دہریت (ناستک مت )نے اپنا تسلّط جمایا ہوا ہے زندہ ایمان کسی میں باقی نہیں۔اوریہ قاعدہ کی بات ہے کہ زندہ ایمان ہی اعمال کی تحریک کرتا ہے۔جب ایمان ہی نہیں جوکہ اعمال کا اصل محرک ہے تو پھر عمل کیسے؟ غرض اس طرح ایمان کے دنیا سے اٹھ جانے کے باعث اعمال صالحہ کا بھی ساتھ ہی نام ونشان مٹ چکا ہے تو پھر کیا وجہ کہ خدا نے ایسی خطرناک حالت اور ایسی سخت ضرورت کے وقت بھی اپنی سنّتِ قدیمہ کو ترک کرکے کوئی رسول اور نبی یا ملہم نہ بھیجا؟ کلمہ طیّبہ کی حقیقت لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ یہ توحید کا کلمہ ہے۔اس کے معنے ہیں کہ خدا کے سوا کوئی بھی عبادت اورسچی فرماں برداری کے لائق نہیں ہے۔خدا اگر توحید کے پھیلانے میں کسی دوسرے کا محتاج ہوتا یا کسی اورکو اس کا م میں اپنا شریک بناتا تو بھی شرک لازم آتا تھا۔مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کا جملہ کلمہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کے ساتھ شامل کرنے میں سِریہی ہے کہ تاتوحید کا سبق کامل ہواور دنیا کو معلوم ہوکہ جوکچھ آتا ہے درحقیقت اسی خدا کی طرف سے آتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ہدایات کو خدا سے پاکر مخلوق کو پہنچانے والے ہیں اورکہ جو کچھ ادھر سے آتا ہے وہ اسی راہ سے آتا ہے۔شرک صرف پتھروں کے پوجنے ہی کا نام نہیں ہے بلکہ شرک کی ایک قسم یہ بھی لکھی ہے کہ انسان خدا کو چھوڑ کر صرف اسباب ہی پر تکیہ کرلے اور یہ شرک فی الاسباب کہلاتا ہے۔برہمو وغیرہ اس رازِ توحید کو نہیں سمجھے جو خدارابخدا باید شناخت میں دکھلا یا گیا ہے۔خدا کی طرف سے آنے والا ایسا ہی ہے کہ گویا خود خداہی ہے۔انسانی گورنمنٹ کی طرف سے آنے والا نائب ہوتا ہے۔اسی طرح سے رسول بھی خدا میں فنا ہوکر وہ وہ نہیں ہوتا بلکہ خود خداہوتا ہے۔غرض مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کا فقرہ توحید کامل کرنے کے واسطے لازمی تھا۔خدا توحید کو پسند کرتا ہے اور یہ شکر کا مقام ہے کہ یہ خصوصیت صرف اسلام میں پائی جاتی ہے جس کو آج ہم پیش کرتے ہیں کسی دوسرے مذہب میں نہیں۔