ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 346

یہی حال انسان کے علم کا ہے کہ اس کو معارف اورحقائق میں سے دیا گیا ہے۔؎ ترسم نہ رسی بہ کعبہ اے اعرابی کیںراہ کہ تو میروی بترکستان است پھر تعجب آتا ہے کہ بعض لوگ معمولی مروجہ علوم کے پڑھ لینے سے بڑے بڑے دعوے کر بیٹھتے ہیں حالانکہ دین کی راہ ایک عمیق درعمیق راہ ہے اور اس کے حقائق اور روحانی فلسفہ ایسا نہیں کہ ہر فرد اس کا ماہر ہونے کا دعویٰ کرسکے۔۱ یہ دین آسمان سے ہی آیا اور ہمیشہ ہمیشہ اس کی سرسبزی کے سامان بھی آسمان ہی سے نازل ہوتے رہیں گے۔ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اگر زمینی علوم اورمروَّجہ تعلیم کے پاس یافتوں سے سوال کیا جاوے تو اکثر اصحاب ایسے نکلیں گے کہ ان کے ماہر ہی ہوں گے مگر ہمیں اس جگہ ان اصحاب کی خدمت میں کہ وہ زمینی اوردنیوی علوم کے ماہر ہیں یہ بھی کہنا ہے کہ ؎ اے کہ خواندی حکمت یونانیاں حکمت ایمانیاں را ہم بخواں حقیقی راحت دین سے ہی وابستہ ہے ہم دیکھتے ہیں کہ آجکل بہت سے ایسے بھی خیالات والے لوگ موجود ہیں کہ ان کی نظر میں دین ایک جنون ہے اور اس کی قدر ان کے دلوں میں نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ عرب کے لوگ وحشی تھے اوراُمّی تھے۔اس وقت ان کی ضرورتوں کے مناسب حال قرآن نازل ہوا۔اب دنیا ترقی کر گئی ہے اور روشنی کا زمانہ ہے۔اب موجودہ زمانہ کے مناسب حال دین میں ترمیم ہونی چاہیے مگر آپ لو گ سن رکھیں کہ دین کوئی لغونہیں ہے بلکہ دنیا کی حقیقی راحت اوراخروی نجات اسی دین میں ہی وابستہ ہے وہ عرب کے اُمّی جو اس دین کے سچے خادم تھے۔ان کا اُمّی ہونا بھی ایک معجزہ ہی ۱ بدر سے۔’’جو شخص دین سے بہر ہ نہ رکھے اورپھر دعویٰ کرے کہ مجھے دوسرے کی کچھ ضرورت نہیں وہ نادان ہے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۲۵؍جون۱۹۰۸ء صفحہ ۵)