ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 345

یعنی قسم ہے آسمان کی جس سے بارش نازل ہوتی ہے اورقسم ہے زمین کی جس سے شگوفہ نکلتا ہے۔بعض لوگ اپنی نادانی کی وجہ سے کہتے ہیں کہ خدا کوقسم کی کیا ضرورت تھی؟ مگر ایسے لوگ آخر کار اپنی جلد بازی کی وجہ سے ندامت اٹھاتے ہیں۔قسم کا مفہوم اصل میں قائم مقام ہوتا ہے شہادت کے۔ہم دنیوی گورنمنٹ میں بھی دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات مقدمات کے فیصلوں کا حصر ہی قسم پر رکھا جاتا ہے۔پس اسی طرح سے خدا تعالیٰ بھی بارش آسمانی کی قسم کھا کر نظام جسمانی کی طرح نظام روحانی میں اس بات کو بطور ایک شہادت کے پیش کرتا ہے کہ جس طر ح سے زمین کی سرسبز ی اورکھیتوں کا ہرابھرا ہونا آسمانی بارش پر موقوف ہے اوراگر آسمانی بارش نہ ہوتو زمین پر کوئی سبزی نہیں رہ سکتی اور زمین مردہ ہوجاتی ہے بلکہ کنوئوں کا پانی بھی خشک ہوجاتا ہے اوردنیا زیر و زبر ہوکر ہلاکت کا باعث ہوجاتی ہے اور لوگ بھوکوں پیاسوں مَرتے ہیں۔قحط کی وجہ سے انسان وحیوان اور پھر چرندوپرند اور درند وغیرہ پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے۔بعینہٖ اسی طرح سے ایک روحانی سلسلہ بھی ہے۔یادرکھو کہ خشک ایمان بجز آسمانی بارش کے جومکالمہ مخاطبہ کے رنگ میں نازل ہوتی ہے۔ہرگز ہرگز باعث نجات یا حقیقی راحت کا نہیں ہوسکتا۔جو لوگ روحانی بارش کے بغیر اور کسی مامور من اللہ کے بغیر نجات پاسکتے ہیں اوران کو کسی مُزَکِّی اور مامورمن اللہ کی ضرورت نہیں۔سب کچھ ان کے پاس موجود ہے۔ان کو چاہیے کہ پانی بھی اپنے گھروں میں ہی پیدا کرلیا کریں۔۱ ان کو آسمانی بارش کی کیا احتیاج؟ آنکھوں کے سامنے موجود ہے کہ جسمانی چیزوں کا مدار کن چیزوں پر ہے؟ پس اس سے سمجھ لوکہ بعینہٖ اسی کے مطابق روحانی زندگی کے واسطے بھی لازمی اور لَا بُدّ اور ضروری ہے۔انسان کا یہ دعویٰ کہ میں نے سب کچھ سیکھ لیا ہے اورمیں نے سارے علوم حاصل کرلیے ہیں یہ بالکل غلط خیال ہے۔انسا ن کا علم کیا ہے؟ جس طرح سمند ر میں ایک سوئی ڈبو کر نکال لی جاوے۔بدر سے۔’’جو لوگ کہتے ہیں ہمیں اب نبیوں کی کیا ضرورت ہے وہ جسمانی بارش کیوں مانگتے ہیں۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۲۵؍جون۱۹۰۸ء صفحہ ۵)