ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 344

فتح نصیب ہو۔نفس امّارہ انسان کا دشمن ہے اوروہ گھر کا پوشیدہ دشمن ہے۔لوّامہ بھی کبھی کبھی دشمنی کا ارادہ کرتا ہے مگر باز آجاتا ہے مگر برخلاف ان دونوں حالتوں کے جب انسان ترقی کرکے نفسِ۔مطمئنّہ کے درجے تک ترقی کرجاتا ہے تواس کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ گویا اس کا دشمن اس کے زیر ہوگیا اوراس نے دشمن پر فتح نمایاں حاصل کرلی اورصلح ہوگئی۔انسانی ترقیات کی آخری حداور اس کی زندگی کا انتہائی نقطہ اسی بات پر ختم ہوتا ہے کہ انسان حالت۔مطمئنّہ حاصل کرلے اور وہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ اس کی رضا خدا کی رضا اور اس کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہوجاتی ہے اس کا ارادہ خدا کا ارادہ ہوتا ہے اور وہ خداکے بلائے بولتا اورخدا کے چلائے چلتا ہے۔تمام افعال حرکات وسکنات اس سے نہیں بلکہ خدا سے سرزد ہوتے ہیں اورانسان کی پہلی حالت پر ایک قسم کی موت وارد ہوجاتی ہے اور ایک نئی زندگی کا جامہ اسے ازسر نو عطا کیا جاتا ہے۔اور پھر ایسا انسان ایک ممتاز انسان ہوجاتا ہے۔غرض قانون قدرت میں ایسا پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دوسلسلے پہلو بہ پہلو بنائے ہیں ایک جسمانی اوردوسرا روحانی۔جوکچھ جسمانی طورسے مہیا ہے وہی روحانی طورسے بھی ہوتا ہے۔پس جو شخص ان دونوں سلسلوں کو نصب العین رکھ کر کاروبار میں کوشش اورمحنت کرے گا وہ جلدی ترقی کرے گا۔اس کے معلومات وسیع ہوں گی۔ہر صورت میں ہرجسمانی کام ان کے روحانی امور کے مشابہ ہوگا۔اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ الْاٰخِرَۃِ۔ہر زمانہ میں مزکّی اورمامورمن اللہ کی ضرورت ہم نظام جسمانی میں دیکھتے ہیں کہ جسمانی کاشتکار باوجود ہر قسم کی باقاعدہ محنت ومشقت کے بھی پھر آسمانی پانی کا محتاج ہے اوراگر اس کی محنتوں اور کوششوں کے ساتھ آسمانی پانی اس کی فصل پر نہ پڑے توفصل تباہ، محنت برباد ہوجاتی ہے۔پس یہی حال روحانی رنگ میں ہے انسان کو خشک ایمان کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ روحانی بارش نازل ہوکر بڑے زورکے نشانات سے اس کے اندرونی گند دھو کر اس کو صاف نہ کرے۔چنانچہ قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ کرکے فرماتا ہے وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ (الطّارق:۱۲،۱۳)