ملفوظات (جلد 10) — Page 25
جھوٹا ہے پرمیشر اُسے ہلاک کرے اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ وید سچے، ویدوں کی رشی منی بھی سچے اور (نعوذ باللہ ) ہمارے نبی کریم جھوٹے اور ہمارا قرآن شریف جھوٹا ہے۔غرض اسی قسم کی با تیں لکھ کر اس نے اپنے پر میشر سے فیصلہ چاہا اور بہت دعائیں کیں۔بہتیرا چلّایا اور بہت ناک رگڑی۔ادھر سے چھ برس کی پیشگوئی کی گئی مگر وہ اپنی شوخی کے سبب سے پانچ برس میں ہی مَر گیا اور مَرا بھی اسی طرح جس طرح پیشگوئی میں لکھا تھا یعنی عید کے دوسرے دن چُھری سے قتل کیا گیا۔اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائیدات غرض میرے پاس اس قدر نشان ہیں کہ ان کے بیان کرنے کے لئے وقت کافی نہیں میرے پاس تو یہی نشان کافی ہے کہ اتنے آدمی جو یہاں آتے ہیں ان میں سے ہر ایک آدمی ایک ایک نشان ہے اور خدا تعالیٰ نے ان سب کی پہلے سے خبر دے رکھی ہے اور یہ سب نصرتیں اور تا ئیدیں جو ہمارے شامل حال ہیں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے ان کا ہمارے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے۔لیکن جو جھوٹا اور مفتری علی اللہ ہوتا ہے اس کو خدا کبھی نصرت نہیں دیتا بلکہ اُلٹا ہلاک کرتا ہے لیکن تم لوگ جانتے ہو کہ ہم پر طرح طرح کے جھوٹے الزام لگائے گئے، مقدمے کئے گئے۔کچہریوں میں ہمیں بدنام اور بے عزت کرنے کی کو ششیں کی گئیں۔قتل کے مقدمے دائر کئے گئے۔قتل کے مقدمہ میں ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے جس کی پیشی میں یہ مقدمہ تھا پوری طرح سے تحقیقات کر کے آخر مجھے کہا کہ میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ بری ہیں۔اور اگر آپ چاہیں تو ان پر نالش کر کے سزا دلا سکتے ہیں۔اب بتلاؤ! کہ اگر خدا ہمارے ساتھ نہ ہوتا تو اس قسم کی فتح اور نصرت ہمیں حا صل ہو سکتی تھی ؟ اس خو ن کے مقدمہ میں مولوی محمد حسین نے بھی گواہی دی تھی۔۱ لیکن میں نے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ میں بری کیا جاؤں گا۔اب بتلاؤکہ ان مقدموں سے ان لوگوں کو کیا حاصل ہوا؟ بجز اس کے کہ ایک اور نشان ظاہر ہو گیا۔۱ بدر سے۔’’ان لوگوں نے جان توڑ کوششیں کیں۔اگر خدا ہمارے ساتھ نہ ہوتا تو کچلے جاتے۔آجکل تین چار گواہ گذار کر پھانسی دلا سکتے ہیں۔ان لوگوں نے آٹھ گواہ گذارے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۵)