ملفوظات (جلد 10) — Page 24
پورے زور لگائے گئے اور ایسی ایسی حد بندیاں کی گئی تھیں کہ جو ہمیں السلام علیکم کہے وہ بھی کافر اور جو خوش خلقی سے پیش آوے وہ بھی کافر اور ہمارے ساتھ وہ باتیں کر لینی روا رکھی گئیں جن کو شریف طبع سن بھی نہیں سکتے۔راستوں میں بیٹھ بیٹھ کر لوگوں کو یہاں آنے سے روکا گیا اور طرح طرح کی باتیں پیش کر کے لوگوں کو ور غلایا گیا۔مگر آخر وہی ہوا جو خدا تعالیٰ نے پہلے ہی سے فرمایا ہوا تھا کہ لاکھوں لوگ تیرے پاس آویں گے اور ہزار ہا روپے اور تحفے تحائف لائیں گے۔اور پھر۱ عجیب بات یہ ہے کہ ان کی مخالفت اور دشمنی کی با بت بھی خدا تعالیٰ نے پہلے ہی سے اطلاع دی تھی بلکہ اسی کتاب میں ایک یہ الہام بھی درج ہے۔یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنْ عِنْدِہٖ وَاِنْ لَّمْ یَعْصِمْکَ النَّاسُ۔(ص ۵۱۰) یعنی اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کر ے گا اور شریروں کی شرارتوں اور دشمنوں کے منصوبوں سے وہ خود تجھے محفوظ رکھے گا اور اگرچہ لو گ تیری حفاظت اور مدد نہ کریں گے مگر خدا ان سب الزاموں اور بہتانوں سے جو شریر لوگ تجھ پر لگائیں گے تیرا معصوم ہونا ثابت کر دے گا۔اب دیکھو! یہ کیسی عظیم الشان پیشگوئی ہے جو پوری ہوئی آخر سچائی کی جستجو کرنے والے کو ماننا ہی پڑے گا اور جو بے ایمان ہے اس کا ہم کیا کریں؟ کیونکہ جو سچا ہی نہیں اس کا مذہب بھی کچھ نہیں کتنا بڑا معجزہ ہے کہ یہ سب مخالف پورا زور لگالیں اور جو کچھ کر سکیں کریں مگر ہم اپنے وعدوں کو پورا کریں گے۔لیکھرام کی ہلاکت کا نشان ایسا ہی ایک پنڈت لیکھرام تھا وہ قادیان میں آیا اور دو ماہ کے قریب یہا ں رہا۔یہاں کے لوگوں نے اُسے بہکایا اور میری مخالفت پر اُسے آمادہ کیا۔آخر اُس نے مباہلہ کے طور پر ایک دعا لکھی اور اس میں میرا نام اور اپنا نام لکھ کر اپنے پر میشر سے نہایت تضرّع اور ابتہال کے ساتھ پرارتھنا کی کہ ہم دونوں میں سے جو ۱ بدر سے۔’’اب خود سوچ کر دیکھو کیا یہ کسی انسان کے بس میں ہے کہ تن تنہا اپنی مشکلات پر غالب آئے ہم کسی کو بالجبر نہیں منواتے بلکہ ہر ایک اپنے طور سے غور کر کے یہ بات سمجھے کہ آیا ہم سچ کہتے ہیں یا نہیں۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۴)