ملفوظات (جلد 10) — Page 321
مخالفت کا فائدہ مخالفوں کے سبّ وشتم کا ذکر تھا۔فرمایا۔دیکھو کا شتکاری میں سب چیزوں ہی سے کام لیا جاتا ہے۔پانی ہے۔بیج ہے۔مگر پھر بھی اس میں کھاد ڈالنے کی ضرورت پڑتی ہے جو سخت ناپاک ہوتی ہے۔پس اسی طرح ہمارے سلسلے کے لئے بھی گندی مخالفت کھاد کا کام دیتی ہے۔جماعت کے قیام کا مقصد فرمایا۔اسلامی فرقوں میں دن بدن پھوٹ پڑتی جاتی ہے۔پھوٹ اسلام کے لئے سخت مضر ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِيْحُكُمْ (الانفال :۴۷) جب سے اسلام کے اندر پھوٹ پڑی ہے دم بد م تنزل کرتا جاتا ہے۔اس لئے خدا نے اس سلسلہ کو قائم کیا تالوگ فرقہ بندیوں سے نکل کر اس جماعت میں شامل ہوں جو بے ہودہ مخالفتوں سے بالکل محفوظ ہے اور اس سیدھے رستے پر چل رہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا۔دوسرے کلمہ گوئوں سے ہمارا اختلاف ہم چاہتے ہیں کہ چند مہذب وشائستہ ومنصف مزاج وخداترس لوگ جمع ہوں اورہم انہیں سمجھائیں کہ ہمارا مذہب کیا ہے اور دوسرے کلمہ گوئوں سے ہمارا کس بات میں اور کیوں اختلاف ہے؟ دراصل ایسے وقت میں خدا نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے جبکہ اسلام دوحملوں کے صدمے اٹھا رہا ہے۔ایک بیرونی طورسے حملہ ہے اور ایک اندرونی طور سے۔چنانچہ بعض مسلمانوں ہی میں سے کہتے ہیں کہ اسلام کے احکام کوئی نہیں۔یہ روزہ ونماز وحج پرانے زمانے کی باتیں ہیں جو کچھ عرب کے وحشیوں کے لئے ہی مفید ہوسکتی تھیں۔پھر قیامت کے حالات پر طرح طرح کے اعتراض کرتے ہیں۔دوم وہ لوگ ہیں جو افراط کی طرف گئے ہیں اوروہ بعض انبیاء کی شان میں غلو کرتے کرتے یہاں تک پہنچے ہیںکہ انہیں خداتک بنادیا ہے۔ایک حضرت عیسٰیؑ ہی کو لو۔ان کو بعض ایسی صفات کا صاحب گردانا ہے جو خاصّہ الوہیت ہیں۔