ملفوظات (جلد 10) — Page 319
حد سے گذر جاتا ہے تو ایسے ہی اعتراض سوجھتے ہیں۔اس پر ایک دوست نے ذکر کیا کہ ایک شخص کہتا تھا کہ اگر قرآن سے حضرت کی صداقت کا ثبوت مل جائے تو میں اس قرآن کو بھی نہیں مانتا۔اگر خدا اپنے نشانوں سے سچا ثابت کر دے تو میں اس خدا پر بھی ایمان نہ لائوں۔یہ لعنتی قول انتہا درجے کی قساوت قلبی پر دال ہے۔خلوص کی قدر حضرت عیسٰیؑ پر ایک شخص نے جو ان کا مرید بھی تھا اعتراض کیا کہ آپ نے ایک فاحشہ سے عطر کیوں ملایا۔انہوں نے کہا کہ دیکھ تو پانی سے میرے پائوں دھوتا ہے اور یہ آنسوئوں سے۔خدا کے نزدیک خلوص کی قدر ہوتی ہے اور میں سچ کہتا ہوں کہ آجکل کے جو فقیہ اور فریسی ہیں ان سے ایسی کنچنیاں پہلے بہشت میں جائیں گی۔درحقیقت انہوں نے اس زمانہ کے علماء کی حالت کے اعتبار سے ٹھیک کہا۔جائز قیاس وہ ہے جو قرآن و سنّت سے مستنبط ہو ایک شخص نے مسئلہ پوچھا۔مرغی کی گردن بلی اتار کر لے گئی۔مرغی پھڑک رہی ہے ذبح کر لی جائے؟ فرمایا۔ایسے مسائل میں اصول کے طور پر یاد رکھو کہ دین میں صرف قیاس کرنا سخت منع ہے۔قیاس وہ جائز ہے جو قرآن و حدیث سے مستنبط ہو۔ہمارا دین منقولی طور سے ہمارے پاس پہنچا ہے۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث ثابت ہو جائے تو خیر ورنہ کیا ضرورت ہے دوچار آنے کے لئے ایمان میں خلل ڈالنے کی؟ وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ (النّحل : ۱۱۷) انذاری پیشگوئی ٹل سکتی ہے آنے والے زلزلہ کی نسبت سوال ہوا۔فرمایا۔حقیقۃ الوحی پڑھو کہ اللہ نے اس کے حکم میں کچھ منسوخ بھی فرما دیا ہے۔چنانچہ فرمایا يُؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى۔ہمار ا خدا قادر مطلق خدا ہے جو