ملفوظات (جلد 10) — Page 318
زیادہ تیز ہتھیار ہوں پس ہتھیار وہ چاہیے جس کا مقابلہ دشمن نہ کرسکے۔وہ ہتھیار سچی تبدیلی اور دل کا تقدس و تطہر ہے۔جسے نزول الماء ہو۔وہ دوسروں کے نزول الماء کو کیا تندرست کرے گا۔صاحبِ باطن کی بات اگر اس وقت بظاہر ردّ بھی کر دی جائے تو بھی وہ خالی نہیں جاتی بلکہ انسانی زندگی پر ایک خفیہ اثر کرتی ہے۔ع سخن کز دل بروں آید نشیند لاجرم بر دل (بوقتِ ظہر) ہنسی ہنسی کے متعلق ذکر تھا۔فرمایا۔جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں چنانچہ وہ فرماتا ہے اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰى(النّجم:۴۴) اصلاح کا صحیح طریق ڈاڑھی منڈ وانے کا ذکر آیا۔فرمایا۔لوگ کن بیہودہ اعتراضوں میں پڑے ہیں وہ ظاہر کو دیکھتے ہیں۔ہماری نگاہ باطن پر ہے جب انسان کا دل پاک ہو جائے تو پھر یہ معمولی اصلاحیں خود بخود ہوجاتی ہیں۔اگر پہلے ہی ایسی باتوں پر اعتراض کر دیا جائے تو انسان ابتلا میں آجاتا ہے اور بہت سی بڑی باتوں سے محروم رہ جاتاہے۔بعض نو مسلم صحابہؓ پر بھی ایسے اعتراض کئے گئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ یوں نہیں چاہیے۔جب انسان نے ایک صداقت کو اختیار کر لیا تو آہستہ آہستہ دوسری صداقتوں کے اختیار کی توفیق بھی حاصل ہو جائے گی۔تدریجی احکام اسی لئے نازل ہوتے رہے۔شراب کی حرمت یکدم نازل نہ ہوئی کہ ابھی طبائع تیار نہ ہو ئی تھیں ایسے لغو معترضوں سے ہمیں امید نہیں کہ وہ کچھ بھی فائدہ حاصل کریں۔وہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ہوتے تو ان پر بھی اعتراض کرنے سے نہ رکتے اور آخر مرتد ہوجاتے۔ہر نبی اور اس کی جماعت پر ایسے اعتراض ہوتے رہے ہیں۔چنانچہ بعض نادانوں نے کہہ د یا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ( الفرقان : ۸) طعام سے مراد اچھا مکلّف عمدہ کھانا ہے جب انکار