ملفوظات (جلد 10) — Page 317
چُھوت چھات چُھوت وغیرہ دراصل اس بات کا نشان ہے کہ ہندوئوں کا مذہب کمزور ہے جو ہاتھ لگانے سے بھی جاتا رہتا ہے۔اسلام کی بنیاد چونکہ قوی تھی اس لئے اس نے ایسی باتوں کو اپنے مذہب میں نہیں رکھا۔چنانچہ کھانے کے متعلق فرما دیا لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِيْعًا اَوْ اَشْتَاتًا (النّور :۶۲) مخلصانہ بیان کا اثر بیان میں جب تک روحانیت اور تقویٰ وطہارت او ر سچا جوش نہ ہو اس کا کچھ نیک نتیجہ مرتّب نہیں ہوتا ہے۔وہ بیان جو کہ بغیر روحانیت و خلوص کے ہے وہ اس پرنالہ کے پانی کی مانند ہے جو موقع بے موقع جوش سے پڑا جاتا ہے اور جس پر پڑتا ہے اسے بجائے پاک و صاف کرنے کے پلید کر دیتا ہے۔انسان کو پہلے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔پھر دوسروں کی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ(المآئدۃ : ۱۰۶) یعنی اے مومنو! پہلے اپنی جان کی فکر کرو۔اگر تم اپنے وجود کو مفید ثابت کرنا چاہو تو پہلے خود پاکیزہ وجود بن جائو۔ایسا نہ ہو کہ باتیں ہی باتیں ہوں اور عملی زندگی میں ان کا کچھ اثر دکھائی نہ دے۔ایسے شخص کی مثال اس طرح سے ہے کہ کوئی شخص ہے جو سخت تاریکی میں بیٹھا ہے۔اب اگر یہ بھی تاریکی ہی لے گیا تو سوائے اس کے کہ کسی پر گر پڑے او ر کیا ہوگا؟ اسے چراغ بن کر جانا چاہیے تاکہ اس کے ذریعہ سے دوسرے روشنی پائیں۔دل کا تقدس اور تطہر ہی صحیح ہتھیار ہیں جسمانی علوم پر نازاں ہونا حماقت ہے۔چاہیے کہ تمہاری طاقت روح کی طاقت ہو۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے سائنس یا فلسفہ یا منطق پڑھایا اور ان سے مدد دی بلکہ یہ کہ اَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ ( المجادلۃ :۲۳) یعنی اپنی روح سے مدد دی۔صحابہ ؓ اُمّی تھے۔ان کا نبی (سیدنا محمدعلیہ الصلوٰۃ والسلام) بھی اُمّی۔مگر جو پُر حکمت باتیں انہوں نے بیان کیں وہ بڑے بڑے علماء کو نہیں سوجھیں کیونکہ ان پر خدا کی خاص تائید تھی۔تقویٰ و طہارت و پاکیز گی سے اندرونی طور پر مدد ملتی ہے۔یہ جسمانی علوم کے ہتھیار کمزور ہتھیار ہیں۔ممکن بلکہ اغلب کہ مخالف کے پاس ان سے بھی