ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 312

وہ اپنے اندر ہی اندر ایک قسم کا احساس پاتا ہے کہ میں نے نیکی کی اور اچھا کام کیا۔انسان کا دل اور کانشنس نورِ ایمان ہر کام کے وقت اس کو معلوم کر ا دیتا ہے کہ آیا اس نے ثواب کیا یا گنا ہ کیا؟ شیطان شیطان کے لئے یہ یادرکھنا چاہیے کہ انسان کی سرشت اور بناوٹ میں دو قوتیں رکھی گئی ہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور یہ اس واسطے رکھی گئی ہیں کہ انسان ان کی وجہ سے آزمائش اور امتحان میں پڑ کر بصورت کامیابی قربِ الٰہی کا مستحق ہو۔ان دو قوتوں میں سے ایک قوت نیکی کی طرف کھینچتی ہے اور دوسری بدی کی طرف بلاتی ہے۔نیکی کی طرف کھینچنے والی قوت کانام مَلک یا فرشتہ ہے اور بدی کی طرف بلانے والی قوت کانام شیطان یا بالفاظ دیگر یوں سمجھ لو کہ انسان کے ساتھ دو قوتیں کام کرتی ہیں۔ایک داعی خیر اور دوسری داعی شر۔اگر کسی کو شیطان اور فرشتہ کا لفظ گراں گذرتا ہے تو یوں ہی سمجھ لے انسان میں دو قوتوں سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔خدا نے کسی بدی کا کبھی ارادہ نہیں کیا۔خدا نے جو کیا خیرہی خیر کیا ہے۔دیکھو! اگر دنیا میں گناہ کا وجود نہ ہوتا تو نیکی بھی نہ ہوتی۔نیکی گناہ سے پیدا ہوتی ہے۔گناہ کے وجود سے ہی نیکی کاوجود پیدا ہوتا ہے۔دیکھو! اگر کسی کو زنا کا موقع ملتا ہے اور اس میں طاقت بھی موجود ہے اور پھر وہ گناہ سے بچتا ہے تو اس کانام نیکی ہے۔اگر کسی کو چوری اور ظلم وغیرہ گناہ کے مواقع ملتے ہیں اور پھر وہ اس کے کرنے پر قادر بھی ہو۔بایں ہمہ وہ ان کا ارتکاب نہ کرے اور اپنے آپ کو بچاوے تو وہ نیکی کرتا ہے۔گناہ کا موقع اور قدرت پاکر گناہ نہ کرنا یہی ثواب اور نیکی ہے۔سوال۔دنیا میں دو مختلف طاقتیں کام کرتی ہیں۔مثبت اور منفی۔اگر ہم ہمیشہ مثبت سے کام لیتے رہیں اور منفی سے کام نہ لیں تو ایک دن ایسا ہو گا کہ منفی آہستہ آہستہ جمع ہو کر زور پکڑ جاوے گی اور کسی وقت یک دفعہ پھوٹ کر دنیا کو تباہ کر دے گی۔یہی حال نیکی اور بدی کاہے اگر تمام دنیا میں نیکی ہی نیکی کی جاوے اور کوئی بدی نہ کرے تو اس طرح ایک دن بدی زور پکڑ کر دنیا کو تباہ کر دے گی۔جواب۔فرمایا۔دیکھو! اگر ایک شخص چلّا کر بولنے پر قادر ہی نہیں تو اس کا نرمی سے بولنا اخلاق فاضلہ میں سے نہیں سمجھا جاوے گا۔اگر انسان ہمیشہ ایک ہی حالت پر قائم رہتا اور دوسرا پہلو بدل ہی