ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 309

یہ کہنے کا حق پہنچتا تھا کہ پرانے قصے کہانیاں کیو ں پیش کی جاتی ہیں کوئی زندہ نمونہ یا ثبوت پیش کیا جاوے۔سواس کے واسطے ہم تیار ہیں۔صرف ہیئت دان اپنی ہیئت وغیرہ یا نظام شمسی میں غور کرنے سے خداکے وجود کا یقینی ثبوت بہم نہیں پہنچا سکتا۔البتہ ایک امکان پیدا ہوسکتا ہے کہ خدا ہونا چاہیے۔یہ بات کہ خداہے اوریقیناً ہے ہمیشہ انبیاء کے پیش کردہ اصول سے ہی ثابت ہوتا رہا ہے۔اگر ہماری طرح کے انسان دنیا میں نہ آتے تو خدا کے ثبوت کاکوئی حقیقی اور کامل ذریعہ ہرگز ہرگز دنیا میں نہ ہوتا۔زیادہ سے زیادہ اگر کوئی منصف مزاج ہوتا اور شرافت بھی اس کے حصہ میںآئی ہوتی تو اس اَبْلغ اور مُحکم ترتیب اور نظام شمسی وغیرہ سے اتنا نتیجہ نکال سکتا تھا کہ خداہونا چاہیے۔باقی یہ اَمر کہ یقیناً خداہے اور وہ دنیا کا مالک، متصرّف اورحکمران ہے۔بجز خدا سے آکر خدا نمائی کرنے والوں کے ممکن نہیں۔وہ لوگ مشاہد ہ کرانے والے ہوتے ہیں اور تازہ بتازہ نشانوں کے پیش کرنے سے گویا خدا کو دکھادیتے ہیں۔سوال۔لکھا ہے کہ ایک آدم اورحوّا تھے۔حوّا ایک کمزور عورت تھی۔اس نے ایک سیب کھالیا۔اب اس کے ایک سیب کھانے کی سز اہمیشہ جاری رہے گی۔یہ اَمرمیری سمجھ میں نہیں آتا اورکہ یہ زمین جس سے ہمارا تعلق ہے اس کے سوا اور ہزاروں کروڑوں سلسلے خدا نے پیدا کیے ہیں تو خدا کی قدرت اور انعامات کوکیوں اس زمین تک محدود کیا جاتا ہے۔جواب۔ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ اس آسمان اور زمین کے سوا اور کوئی سلسلہ ہی نہیں۔بلکہ ہمارا خدا کہتا ہے کہ وہ ربُّ العالمین ہے یعنی کہ وہ کل جہانوں کا ربّ ہے اور کہ جہاںجہاں کوئی آبادی ہے وہاں وہاں ہی اس نے رسول بھیجے ہیں۔عدم علم سے عدم شی ء لازم نہیں آتی۔جس خدا نے اس ایک چھوٹی سی زمین کے واسطے اتنا وسیع سامان پیدا کیا اس نے کیوں دوسری تمام آبادیوں کے واسطے سامان پیدا نہ کیے ہوں گے؟ وہ سب کا یکساں ربّ ہے اور سب کی ضرورتوں سے واقف۔باقی یہ کہنا کہ انسانی رنج ومحن حوّا کے سیب کھانے کی وجہ سے ہیں اسلام کا یہ عقیدہ نہیں۔ہمیں تو