ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 308

اس کی غیرت تقاضا کرتی ہے کہ ان مفاسد کی اصلاح کے واسطے کوئی شخص پیدا کرے اور اس طرح کا مصلح قانونِ قدرت سے باہر نہیں۔جس طرح ہمارے واسطے وہ اناج جو حضرت آدم ؑ یا اور گذشتہ انبیاء کے وقت میں پیدا ہواتھا باعث زندگی نہیں ہوسکتا اور وہ پانی جو پہلے لوگوں کے واسطے تھا ہماری پیاس نہیں مٹاسکتا اسی طرح سے روحانی طورسے بھی ہمیں تازہ بتازہ روحانی غذا اورپانی کی ضرورت ہے۔یہ عادت اللہ ہے کہ جس طرح سے جسمانی سلسلے کی پرورش اورتربیت کرتا ہے اورگذشتہ پرورش کافی نہیں ہوتی اسی طرح سے روحانی سلسلہ کا حال ہے اور روحانی جسمانی دونوں سلسلے پہلو بہ پہلو چلتے ہیں۔اگر کوئی شخص خدا سے ہی منکر ہو تو اس بحث کا الگ ایک طریق ہے۔خدا کے قائل کو چاہیے کہ دونوں سلسلوں کو بالمقابل رکھ کر ایک ہی نظر سے دیکھ کر فائدہ اٹھائے۔جس نے جسمانی سلسلہ پیدا کیا ہے اسی نے روحانی سلسلہ پیدا کیا ہے۔جس طرح وہ جسمانی سلسلہ کی تازہ بتازہ پرورش کرتا ہے اسی طرح سے وہ روحانی سلسلہ کی بھی تازہ بتازہ پرورش کرتا ہے۔جس طرح جسمانی حالت ایک تازہ پانی کی محتاج ہے اسی طرح روحانی حالت بھی تازہ آسمانی وحی کی محتاج ہے۔جس طرح جسم بغیر پرورش کے مَرجاتا ہے اسی طرح روح بھی بغیر پرورش کے مُردہ ہوجاتی ہے۔روحانی امور میں اگر ہمیشہ گذشتہ ہی گذشتہ کا حوالہ دیا جاوے تو بجز اس کے کہ روحانی حالت ایک مُردہ حالت ہوجاوے گی اور کیا ہوسکتا ہے ؟ خدا ہمیشہ طبعاً چاہتا ہے کہ وہ پہچانا جاوے۔وہ اپنی شناخت اورزندگی کے ثبوت میں ہمیشہ حقائق، معارف اورتازہ بتازہ نشان دکھایا کرتا ہے اوریہ امور کوئی عقلی استبعاد بھی نہیں رکھتے۔یہی سلسلہ ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔ہزاروں لاکھوں انبیاء آئے انہوں نے عملی طورسے ثبوت دئیے۔دنیا پر حجت پوری کی۔اب کوئی شخص صرف یہ کہہ کر (کہ) میں سائنس دان یا فلاسفر ہوں ایک ایسی متواتر اور ثابت شدہ شہادت کو کیسے توڑ سکتا ہے؟ چاہیے کہ جس طر ح سے اس گروہ پاک نے عملی زندگی اور نمونے سے اپنے دعویٰ کا ثبوت دیا اسی طرح سے اس کاردّ بھی کیا جاتا ہے۔ہاں البتہ ان لوگوں کو