ملفوظات (جلد 10) — Page 296
غرض اسی طرح ہماری جماعت کے بھی جنگ ہوتے ہیں ان میں جوش نفس کو شامل نہ کرنا چاہیے۔دیکھو! اگر ہم خدا کے نزدیک کافر اور دجّال نہیں ہیں تو پھر کسی کے کافر اوردجّال وغیرہ کہنے سے ہمارا کچھ بگڑتا نہیں اوراگر واقع میں ہی ہم خدا کے حضور میں مقبول نہیں بلکہ مردود ہیں توپھر کسی کے اچھا کہنے اورنیک بنانے سے ہم خدا کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔دلوں کو فتح کرو پس تم یاد رکھو کہ نرمی عمدہ صفت ہے۔نرمی کے بغیر کام چل نہیں سکتا۔فتح جنگ سے نہیں۔جنگ سے اگر کسی کو نقصان پہنچا دیا تو کیا کیا؟چاہیے کہ دلوں کو فتح کرو اوردل جنگ سے فتح نہیں ہوتے بلکہ اخلاقِ فاضلہ سے فتح ہوتے ہیں۔اگر انسان خداکے واسطے دشمنوں کی اذیتوں پر صبر کرنے والا ہوجاوے توآخر ایک دن ایسابھی آجاتا ہے کہ خود دشمن کے دل میں ایک خیال پیدا ہوجاتا ہے اور اثر ہوتا ہے اورجب وہ برکاتِ فیوض اور نصرتِ الٰہی کو دیکھتا ہے اوراخلاقِ فاضلہ کا برتائو دیکھتا ہے توخود بخود اس کے دل میں ایسا خیال پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر یہ شخص جھوٹا ہی ہوتا اور خدا پر افترا کرنے والا ہی ہوتا تو اس کی یہ نصرت اورتائید تو ہرگز نہ ہوتی۔ان لوگوں نے کوئی ہمیں ہی یہ گالیاں نہیں دیں بلکہ یہ معاملہ تمام انبیاء کے ساتھ اسی طرح چلا آیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کذّاب، ساحر، مجنون، مفتری وغیرہ الفاظ سے یاد کیا گیا تھا اور انجیل کھول کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ حضرت عیسٰیؑ سے بھی ایسا ہی برتائو کیا گیا۔حضرت موسٰی کو بھی گالیاں دی گئی تھیں۔اصل میں تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ والی بات ہے اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ يٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠ (یٰسٓ:۳۱) کوئی بھی ایسا سچا نبی نہیں آیا کہ آتے ہی اس کی عزت کی گئی ہو۔ہم کیوں کر سنّت اللہ سے باہر ہوسکتے ہیں۔بات تو آسا ن ہی تھی اور معاملہ بڑا صاف تھا۔مگر ان منصوبہ بازوں نے معاملہ کچھ کا کچھ کردیا ہے۔کیا یہ سچ ہے کہ ہم نبیوں کو گالیاں دیتے ہیں؟ ہم تو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے آئے ہیں اور کررہے ہیں۔ہماری کتابیں دیکھ لو۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتاہے کہ کس طرح ہمارا ہر ذرّہ ذرّہ خدا کی راہ میں فدا اور قربان ہے۔