ملفوظات (جلد 10) — Page 297
دعویٰ نبوت کی حقیقت باقی رہی یہ بات کہ ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔یہ نزاع لفظی ہے۔مکالمہ مخاطبہ کے تویہ لوگ خود بھی قائل ہیں۔اسی مکالمہ مخاطبہ کا نام اللہ تعالیٰ (نے) دوسرے الفاظ میں نبوت رکھا ہے ورنہ اس تشریعی نبوت کا توہم نے بارہا بیان کیا ہے کہ ہم نے ہرگز ہرگز دعویٰ نہیں کیا۔قرآن سے برگشتہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے برگشتہ ہوکر نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو تو ہم واجب القتل اورلعنتی کہتے ہیں۔اس طرح کی نبوت کا کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو منسوخ کردے دعویٰ کرنے والے کو ہم ملعون اور واجب القتل جانتے ہیں۔ہم پر جو اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں یہ سب رسول اکرم ؐ کے فیض سے ہی ہیں۔آنحضرتؐسے الگ ہو کر ہم سچ کہتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں اورخاک بھی نہیں۔آنحضرتؐکی عزت اورمرتبہ دل میں اور ہر رگ وریشہ میں ایسا سمایا ہے کہ ان کو اس درجہ سے خبر تک بھی نہیں۔کوئی ہزار تپسیاکرے، جپ کرے، ریاضتِ شاقّہ اور محنتوں سے مشتِ استخوان ہی کیوں نہ رہ جاوے مگر ہرگز کوئی سچا روحانی فیض بجز آنحضرتؐکی پیروی اوراتباع کے کبھی میسر آسکتا ہی نہیں اور ممکن ہی نہیں۔اب جبکہ ہمارا یہ حال ہے اورایسا ایمان ہے تو پھر ان کا ہمیں کا فرودجّال کہنا کیامعنے رکھتا ہے ؟ ابھی چند روز ہوئے ہمارے پاس ایک اور نیا فتویٰ چھپ کر آیا ہے جس میں ہمیں طرح طرح کے ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔مگر ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے ہمارا کچھ بگڑتا نہیں۔اگر ہم خدا کی نظر میں مقبول ہیں تو پھر ان کے فتوے ہمیں کوئی ضرر دے سکتے ہی نہیں۔ہمیں کافر کہنے والے خود بھی تو کفر سے نہیں بچے بلکہ ان کا کفر توبہت پکا کفر ہے۔ان کے واسطے تولکھا جاچکا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی مسجدمیں داخل ہوتو وہ صرف دھونے سے پاک نہیں ہوسکتی بلکہ اینٹیں اکھاڑ کر نیا فرش لگایا جانے سے مسجد پاک ہوتی تھی۔ہمارے واسطے ایسی بات تونہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ جتنے اہل اللہ گذرے ان میں کوئی بھی تکفیر سے نہیں بچا۔کیسے کیسے مقدس اورصاحب برکات تھے۔حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ان پر بھی قریباً دوسو علماء وقت نے کفر کا فتویٰ لکھا تھا۔ابنِ جوزی جو محدّث وقت تھا اس نے ان کی تکفیر کی نسبت ایک خطرناک