ملفوظات (جلد 10) — Page 295
کی کوئی بد ی یا نقص دیکھتے ہیں جب تک اس کی اچھی طرح سے تشہیر نہ کر لیں ان کو کھانا ہضم نہیں ہوتا۔حدیث میں آیا جو اپنے بھائی کے عیب چھپاتا ہے خدا اس کی پردہ پوشی کرتا ہے۔انسان کو چاہیے شوخ نہ ہو۔بے حیائی نہ کرے۔مخلوق سے بد سلوکی نہ کرے۔محبت اور نیکی سے پیش آوے۔اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے کسی سے بغض نہ رکھو اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے کسی سے بغض نہ رکھے۔سختی اور نرمی مناسب موقع اور مناسب حال کرے اور اگر کسی جگہ درشتی کرنی بھی پڑ جائے تو اس طرح کرے جس طرح کوئی کسی کامامور یا نائب حکم کی پابندی کی وجہ سے کرتا ہے۔انبیاء نے بھی بعض اوقات سختی کی ہے مگر نہ جوش نفس سے بلکہ محض خدا کے حکم اور اصلاح کی غرض سے۔ہم نے کسی کتاب میں ایک حکایت پڑھی ہے۔لکھا ہے کہ حضرت علیؓ کی ایک کافر سے جنگ ہوئی۔جنگ میں مغلوب ہو کر وہ کافر بھاگا۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کا تعاقب کیا اور آخر اسے پکڑا۔اس سے کشتی کرکے اس کو زیر کر لیا۔جب آپ رضی اللہ عنہ اس کی چھاتی پر خنجر نکال کر اس کے قتل کرنے کے واسطے بیٹھ گئے تو اس کافر نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔اس سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کی چھاتی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس سے الگ ہو گئے۔وہ کافر اس معاملہ سے حیران ہوا اور تعجب سے اس کا باعث دریافت کیا۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ تم سے جنگ کرتے ہیں تو محض خدا کے حکم سے کرتے ہیں۔کسی نفسانی غرض سے نہیں کرتے بلکہ ہم تو تم لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔میں نے تم کو پکڑا خدا کے لئے تھا۔مگر جب تم نے میرے منہ پر تھوک دیا تو اس سے مجھے بشریت کی وجہ سے غصہ آگیا تب میں ڈرا کہ اگر اس وقت جبکہ اس معاملہ میں میرا نفسانی جوش بھی شامل ہو گیا ہے تم کو قتل کروں تو میرا سارا ساختہ پرداختہ ہی برباد نہ ہوجاوے اور جوش نفس کی ملونی کی وجہ سے میرے نیک اور خالصاً للہ اعمال بھی حبط نہ ہو جاویں۔یہ ماجرا دیکھ کر کہ ان لوگوں کا اتنا باریک تقویٰ ہے۔اس نے کہا کہ میں نہیں یقین کرسکتا کہ ایسے لوگوں کا دین باطل ہو۔لہٰذا وہ وہیں مسلمان ہو گیا۔