ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 294

اور آئندہ اس بدکام سے بازرہنے کا عہد کرلیتا ہے تواللہ تعالیٰ بھی اس پر رجوع کرتا ہے رحمت سے۔خداانسان کی توبہ سے بڑھ کر توبہ کرتا ہے۔چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر انسان خدا کی طرف ایک بالشت بھر جاتا ہے تو خدا اس کی طرف ہاتھ بھر آتا ہے۔اگر انسان چل کر آتا ہے تو خدا دوڑ کر آتا ہے۔یعنی اگر انسان خد ا کی طرف توجہ کرے تو اللہ تعالیٰ بھی رحمت، فضل اور مغفرت میں انتہا درجہ کا اس پر فضل کرتا ہے۔لیکن اگر خدا سے منہ پھیر کر بیٹھ جاوے تو خدا کو کیا پروا۔دیکھو! یہ خدا کے فیضان کے لینے کی راہیں ہیں۔اب دروازے کھلے ہیں تو سورج کی روشنی برابر اندر آرہی ہے اور ہمیں فائدہ پہنچا رہی ہے لیکن اگر ابھی اس مکان کے تمام دروازے بند کر دئیے جاویں تو ظاہر ہے کہ روشنی آنی موقوف ہو جاوے گی اور بجائے روشنی کے ظلمت آجاوے گی۔پس اسی طرح سے دل کے دروازے بند کرنے سے تاریکی ذنوب اور جرائم آموجود ہوتی ہے اور اس طرح انسان خدا کی رحمت اور فضل کے فیوض سے بہت دور جا پڑتا ہے۔پس چاہیے کہ توبہ استغفار منتر جنتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ ان کے مفہوم اور معانی کو مدّنظر رکھ کر تڑپ اورسچی پیاس سے خدا کے حضور دعائیں کرو۔توبہ میں ایک مخفی عہد بھی ہوتا ہے کہ فلاں گناہ مَیں کرتا تھا۔اب آئندہ وہ گناہ نہیں کروںگا۔اصل میں انسان کی خدا تعالیٰ پر دہ پوشی کرتا ہے کیونکہ وہ ستّارہے بہت سے لوگوں کو خدا کی ستّاری نے ہی نیک بنا رکھا ہے۔ورنہ اگر خدا ستّاری نہ فرماوے تو پتہ لگ جاوے کہ انسان میں کیا کیا گند پوشید ہ ہیں۔انسان کے ایمان کا کمال انسان کے ایمان کا بھی کمال یہی ہے کہ تخلّق باخلاق اللہ کرے۔یعنی جو جو اخلاق فاضلہ خدا میں ہیں اور صفات ہیں ان کی حتی المقدور اتباع کرے اور اپنے آپ کو خدا کے رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرے مثلاً خدا میں عفو ہے۔انسان بھی عفو کرے۔رحم ہے حلم ہے کرم ہے انسان بھی رحم کرے۔حلم کرے۔لوگوں سے کرم کرے۔خدا ستار ہے۔انسان کو بھی ستّاری کی شان سے حصہ لینا چاہیے اور اپنے بھائیوں کے عیوب اور معاصی کی پردہ پوشی کرنی چاہیے۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب کسی