ملفوظات (جلد 10) — Page 293
کا فطر ی تقاضا ہے۔انبیاء اس فطرتی کمزوری اورضعف بشریت سے خوب واقف ہوتے ہیں۔لہٰذا وہ دعاکرتے ہیں کہ یا الٰہی! توہماری ایسی حفاظت کرکہ وہ بشری کمزوریاں ظہور پذیر ہی نہ ہوں۔غفر کہتے ہیں ڈھکنے کو۔اصل بات یہی ہے کہ جو طاقت خدا کو ہے وہ نہ کسی نبی کو ہے نہ ولی کو اور نہ رسول کو۔کوئی دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں اپنی طاقت سے گناہ سے بچ سکتا ہوں پس انبیاء بھی حفاظت کے واسطے خداکے محتاج ہیں۔پس اظہارِ عبودیت کے واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اورانبیاء کی طرح اپنی حفاظت خدا سے مانگا کرتے تھے۔یہ ان لوگوں کا خیال غلط ہے کہ حضرت عیسٰیؑ استغفار نہ کرتے تھے۔یہ ان کی بیوقوفی اور بے سمجھی ہے اور یہ حضرت عیسٰیؑ پر تہمت لگاتے ہیں۔انجیل میں غور کرنے سے صریح اورصاف طورسے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جابجا اپنی کمزوریوں کا اعتراف کیا اور استغفار بھی کیا۔اچھا! بھلا اَیْلِیْ اَیْلِیْ لِمَا سَبَقْتَانِیْ سے کیا مطلب؟ اَبِیْ اَبِیْ کرکے کیوں نہ پکارا؟ عبرانی میں اَیْل خدا کو کہتے ہیں۔اس کے یہی معنے ہیں کہ رحم کر اورفضل کر اور مجھے ایسی بے سروسامانی میں نہ چھوڑ (یعنی میری حفاظت کر)۔درحقیقت مشکل تویہ ہے کہ ہندوستان میں بوجہ اختلاف زبان استغفار کا اصل مقصد ہی مفقود ہوگیا ہے اوران دعائوں کو ایک جنتر منتر کی طرح سمجھ لیا ہے۔کیانماز اور کیا استغفار اور کیا تو بہ؟ اگر کسی کو نصیحت کرو کہ استغفار پڑھا کرو تووہ یہی جواب ملتا ہے کہ میں تو استغفار کی سو بار یا دو سوبار تسبیح پڑھتا ہوں مگر مطلب پوچھو توکچھ جانتے ہی نہیں۔استغفار ایک عربی لفظ ہے اس کے معنے ہیں طلب مغفرت کرنا کہ یا الٰہی! ہم سے پہلے جو گناہ سرزدہوچکے ہیں ان کے بد نتائج سے ہمیں بچا کیونکہ گناہ ایک زہر ہے اوراس کا اثر بھی لازمی ہے اورآئندہ ایسی حفاظت کر کہ گناہ ہم سے سرزد ہی نہ ہوں۔صرف زبانی تکرار سے مطلب حاصل نہیں ہوتا۔توبہ توبہ کے معنے ہیں ندامت اورپشیمانی سے ایک بد کام سے رجوع کرنا۔توبہ کوئی بُرا کام نہیں ہے۔بلکہ لکھا ہے کہ توبہ کرنے والا بندہ خدا کو بہت پیاراہوتا ہے۔خدا کا نام بھی توّاب ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان اپنے گناہوں اور افعالِ بد سے نادم ہوکر پشیمان ہوتا ہے