ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 292

دھوکہ دینے کی کوشش کرتاہے حالانکہ جانتاہے کہ خدا عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ہے دل سے تو مومن ہوتا نہیں مگر خداکے آگے مومن بننا چاہتا ہے بھلا خدا کسی کے دھوکے میں آسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔دیکھو! تقویٰ ایک ایسی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف ایک متقی انسان کی خاطر دوسروں پر بھی رحم کرتا ہے اوراس کے اہل وعیال، خویش واقارب اور متعلقین پر بھی اثر پڑتا ہے اوراسی طرح سے اگر جرائم اورفسق وفجور کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کا اثر بھی پڑتا ہے۔غرض خدا سے ڈرنا اور متقی بننا بڑ ی چیز ہے خدااس کے ذریعہ سے ہزار آفات سے بچالیتا ہے بجز اس کے کہ خدا تعالیٰ کی حفاظت اس کے شامل ہو۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مجھے بَلا نہیں پکڑے گی اور کسی کو بھی مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔آفات توناگہانی طورسے آجاتے ہیں۔کسی کو کیا معلوم کہ رات کو کیا ہوگا؟ استغفار کی تلقین لکھا ہے کہ ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔پہلے بہت روئے اورپھر لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا۔عباداللہ! خدا سے ڈرو آفات اوربلیّات چیونٹیوں کی طرح انسان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ان سے بچنے کی کوئی راہ نہیں بجز اس کے کہ سچے دل سے توبہ استغفار میں مصروف ہوجائو۔استغفار اور توبہ کا یہ مطلب نہیں جو آجکل لوگ سمجھے بیٹھے ہیں۔اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا جبکہ اس کے معنے بھی کسی کو معلوم نہیں۔اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ایک عربی زبان کا لفظ ہے۔ان لوگوں کی توچونکہ یہ مادری زبان تھی اور وہ اس کے مفہوم کو اچھی طرح سے سمجھے ہوئے تھے۔استغفار کے معنے یہ ہیں کہ خدا سے اپنے گذشتہ جرائم اور معاصی کی سزا سے حفاظت چاہنا اور آئندہ گناہوں کے سرزد ہونے سے حفاظت مانگنا۔استغفار انبیاء بھی کیاکرتے تھے اورعوام بھی۔بعض نادان پادریوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار پر اعتراض کیا ہے اور لکھا ہے کہ ان کے استغفار کرنے سے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہ۱ کا ہونا ثابت ہوتا ہے۔یہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ استغفار تو ایک اعلیٰ صفت ہے۔انسان فطرتاً ایسا بنا ہے کہ کمزور ی اورضعف اس ۱ یعنی گنہگار (مرتّب)